Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل اور حزب اللہ جمعہ سے جنگ بندی پرمتفق: امریکی عہدیدار

Updated: June 19, 2026, 10:05 PM IST | Washington

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ جمعہ سے جنگ بندی پرمتفق ہوگئے ہیں، یہ جنگ بندی اس وقت عمل میں آئی جب اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان میں کم از کم۳۱؍ افراد شہید ہوئے اور حزب اللہ کے حملے میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

A scene of the destruction caused by Israeli attacks in Lebanon; Photo: X
لبنان میں اسرائیلی حملوں سے ہوئی تباہی کا ایک منظر؛ تصویر: ایکس

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے انادولو ایجنسی کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ العمل ہو گی۔تاہم عہدیدار نے معاہدے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔جبکہ جنگ بندی کے اعلان سے قبل جمعہ کے اوائل سے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم۳۱؍ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے حملے میں چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔ واضح رہے کہ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طور پر ’’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘‘ پر دستخط کیے جس کا مقصد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنا اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیتن یاہو کی مشروط حمایت کا اعلان، جے ڈی وینس کی اسرائیل کو تنبیہ

بعد ازاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،۲؍ مارچ سے لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائی میں ۳۹۱۲؍افراد شہید، ۱۱۸۷۳؍ زخمی اور دس لاکھ سے زائد رہائشی بے گھر ہو چکے ہیں۔ دریں اثناء اسرائیل جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، جن میں سے کچھ پر دہائیوں سے قبضہ ہے اور کچھ پر حالیہ تنازع کے بعد سے۔ساتھ ہی حالیہ فوجی مہم کے دوران، اسرائیلی افواج لبنانی علاقے میں۱۰؍ سے زیادہ آگے بڑھ گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے محروم رکھنا ’ناانصافی‘ ہوگی: ٹرمپ؛ منجمد اثاثوں پر اپنا موقف بھی بدل دیا

یاد رہے کہ ۲۸؍ مئی کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزئل سے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کےبعد حالیہ دونوں میں امریکہ و ایران کے مابین مختلف ممالک کی ثالثی میں ۱۴؍ نکاتی مفاہمت پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے، اس میں اہم شرط لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ تھی، حالانکہ اسرائیل نے اس شرط کو ابتدائی دور میں ماننے سے انکار کردیا تھا، لیکن امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل نے بھی یہ شرط مان لی۔ لبنان پر اسرائیل کے حملے کا خاتمہ اسی معاہدے کی ایک شرط کی پاسداری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK