Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ پر خاموش نہیں رہ سکتے، یورپی یونین کو اقدام کرنا ہوگا: آئرلینڈ

Updated: May 12, 2026, 8:09 PM IST | Brussels

ہیلن میک اینٹی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر ’’خاموش تماشائی‘‘ نہ بنے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل انہوں نے اسرائیل یورپی یونین اسوسی ایشن معاہدے کے تجارتی حصوں کی معطلی اور مغربی کنارے میں پرتشدد آبادکاروں پر پابندیوں کا مطالبہ دہرایا۔

Helen McEntee (center). Photo: X
ہیلن میک اینٹی (درمیان میں)۔ تصویر: ایکس

آئرلینڈ نے ایک بار پھر غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر یورپی یونین سے سخت اور عملی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ مزید خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ برسلز میں یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیلن میک اینٹی نے کہا کہ یورپی یونین کو اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ یورپی یونین کو عمل کرنا ہوگا۔ ہم غزہ کے معاملے میں، اور خاص طور پر مغربی کنارے میں بگڑتی صورتحال کے حوالے سے، خاموش کھڑے نہیں رہ سکتے۔‘‘

آئرش وزیر خارجہ نے مغربی کنارے میں پرتشدد اسرائیلی آبادکاروں اور ان کی حمایت کرنے والی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ ان کے مطابق اسرائیل یورپی یونین اسوسی ایشن معاہدے کے تجارتی عناصر کی معطلی ’’انتہائی ضروری‘‘ ہے تاکہ یورپی یونین خود کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ثابت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت ناجائز ہے اور یورپی یونین کو اس حقیقت کے مطابق اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بالکل واضح کیا جا چکا ہے کہ اس نوعیت کی تجارت غیر قانونی ہے۔ جتنی دیر تک یہ صورتحال جاری رہے گی، اسرائیل کے اپنے رویے میں تبدیلی کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔‘‘

میک اینٹی کے مطابق غزہ میں انسانی صورتحال مسلسل بدتر ہو رہی ہے، جبکہ امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور اس پس منظر میں یورپی یونین کو عملی اقدام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ’’ہمیں جواب دینا ہوگا۔ ہمیں کارروائی کرنی ہوگی۔‘‘ آبادکاریوں کے ساتھ تجارت پر ٹیرف کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے آئرش وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات دراصل غیر قانونی بستیوں کو ’’جواز‘‘ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بین الاقوامی قانون واضح ہے کہ یہ غیر قانونی آبادیاں ہیں، اس لیے ان پر ٹیرف لگا کر آپ انہیں کسی حد تک جائز قرار دیتے ہیں، اور ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: لیبر پارٹی میں بغاوت، ۴۰؍ ارکان کا کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ

بعد ازاں جین نوئیل بیروٹ نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری کی حمایت کرنے والی اسرائیلی تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکیج پر اتفاق کر لیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’یہ ہو گیا! یورپی یونین آج مغربی کنارے میں انتہا پسند اور پرتشدد آبادکاروں کی حمایت کرنے والی اہم اسرائیلی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ اور مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد کے باعث اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔خیال رہے کہ آئرلینڈ یورپی یونین کے اندر ان ممالک میں شامل ہے جو غزہ جنگ اور اسرائیلی پالیسیوں پر سب سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ پابندیوں کو یورپی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK