Updated: May 11, 2026, 9:05 PM IST
| London
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ برطانیہ میں حالیہ مقامی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد کم از کم چالیس لیبر قانون سازوں نے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ متعدد پارٹی ارکان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے پاس عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے واضح منصوبہ موجود نہیں۔ اس کے باوجود اسٹارمر نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو ’’افراتفری‘‘ میں نہیں دھکیلیں گے۔
کیئر اسٹارمر۔ تصویر: آئی این این
برطانیہ میں حکمراں لیبر پارٹی کے اندر سیاسی بے چینی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں حالیہ مقامی اور علاقائی انتخابات میں مایوس کن نتائج کے بعد وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ دینے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم ۴۰؍ لیبر قانون سازوں نے گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے بعد پارٹی قیادت پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے پیر کو ایک تقریر میں واضح کیا کہ وہ ’’ہٹ نہیں رہے‘‘ اور ’’ملک کو افراتفری میں نہیں ڈالیں گے‘‘، تاہم پارٹی کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے جواب کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا؛ ٹرمپ کا ردِعمل ’غیر متعلقہ‘: تہران
لیبر پارٹی کی بیک بینچر رکن بیل ریبیرو ایڈی دوسری قانون ساز بن گئیں جنہوں نے کھل کر اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ واضح ہے کہ وزیراعظم کے پاس کوئی قابل اعتماد منصوبہ نہیں۔ اب انہیں اپنی روانگی کے لیے ٹائم ٹیبل طے کرنا چاہیے۔‘‘ اسی طرح لیبر ایم پیز کے گروتھ گروپ کے لیڈر کرس کرٹس نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی قیادت میں تبدیلی کے حامی ہیں۔ لندن میں ایک تقریب کے دوران اپنی تقریر میں اسٹارمر نے اعتراف کیا کہ انتخابی نتائج ’’سخت اور تکلیف دہ‘‘ تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کئی اہم نمائندے کھو دیے، جس کی ذمہ داری وہ قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے معلوم ہے کہ میری اپنی جماعت میں بھی کچھ لوگ مجھ پر شک کرتے ہیں، لیکن میں انہیں غلط ثابت کروں گا۔‘‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال غیر معمولی طور پر خطرناک ہے اور ایسے وقت میں وہ ملک کو سیاسی انتشار میں نہیں دھکیل سکتے۔ دوسری جانب سابق ڈپٹی لیبر لیڈر انگیلا رینر نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ عوام صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔ مارچ میں پارٹی سے معطل کیے جانے والے رکن کارل ٹرنر نے بھی کہا کہ اگرچہ اسٹارمر کی تقریر اچھی تھی، لیکن اس سے عوام کو یہ یقین نہیں دلایا جا سکا کہ حالات واقعی تبدیل ہونے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا: آئین میں ترمیم، کم جونگ ان کے قتل کی صورت میں جوہری حملہ لازمی
حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو خاص طور پر ویلز میں شدید دھچکا لگا، جہاں پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب اسکاٹش نیشنل پارٹی نے اسکاٹ لینڈ میں مسلسل پانچویں مرتبہ اقتدار حاصل کر لیا۔ اسی دوران دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے نے بھی حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے ۱۴۵۰؍ سے زائد کونسل نشستیں جیت لیں، جسے برطانوی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نتائج نے برطانیہ میں روایتی سیاسی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیبر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئندہ مہینوں میں پارٹی قیادت اور حکمت عملی دونوں کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہو سکتے ہیں۔