اڈانی گروپ میک ان انڈیا پہل کے تحت ہندوستان میں کارگو طیاروں کی مینوفیکچرنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اس مقصد کے لیے برازیل کی طیارہ ساز کمپنی ایمبریر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے والی ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai
اڈانی گروپ میک ان انڈیا پہل کے تحت ہندوستان میں کارگو طیاروں کی مینوفیکچرنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اس مقصد کے لیے برازیل کی طیارہ ساز کمپنی ایمبریر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے والی ہے۔
اڈانی گروپ میک ان انڈیا پہل کے تحت ہندوستان میں کارگو طیاروں کی مینوفیکچرنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔ اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اس مقصد کے لیے برازیل کی طیارہ ساز کمپنی ایمبریر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے والی ہے۔ اس کا اعلان یہاں راجیو گاندھی بھون، وزارت شہری ہوا بازی میں ۲۷؍ جنوری کو کیا جائے گا۔
میڈیا بریفنگ کے لیے دونوں کمپنیوں کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ دعوت نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعلان ’’ہندوستان کے میک ان انڈیا کارگو ایئر کرافٹ کے سفر میں تاریخی پیشرفت ہے۔‘‘ دعوت نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اعلان ’’ایرو اسپیس میں ہندوستان کی خود انحصاری کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔‘‘ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ دونوں کمپنیوں نے ہندوستان میں کارگو طیاروں کی تیاری کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ اعلان ونگز انڈیا ۲۰۲۶ ءمیں کیا جائے گا، جو حیدرآباد میں ۲۸؍ سے ۳۱؍ جنوری تک منعقد ہونے والی ہے۔
مرکز نے اہم مالیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشن یافتگان کی تنخواہوں اور پنشن میں ترمیم کو منظوری دی
مرکزی حکومت نے جمعہ کو عوامی شعبے کے اہم مالیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشن یافتگان کے لیے جامع تنخواہ اور پنشن ترمیمات کو منظوری دے دی۔ یہ قدم عوامی شعبے کی جنرل انشورنس کمپنیوں (پی ایس جی آئی سی)، نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ) اور ریزرو بینک آف انڈیا کے موجودہ اور سابق ملازمین کی معاشی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسکر ۲۰۲۶ء میں تیموتھی شالامے نے تاریخ رقم کر دی، ۳؍ آسکر نامزدگی
مرکزی حکومت کی اس ترمیم سے مجموعی طور پر تقریباً ۴۶۳۲۲؍ ملازمین،۲۳۵۷۰؍ پنشنرز اور ۲۳۲۶۰؍ خاندانی پنشنرز مستفید ہوں گے۔ وزارتِ خزانہ کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ملازمین کے لیے تنخواہوں میں ترمیم یکم اگست۲۰۲۲ء سے سابقہ تاریخ کے طور پر نافذ ہوگی۔ اس میں بنیادی تنخواہ اور مہنگائی الاؤنس میں۱۴؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے مجموعی تنخواہی اخراجات میں ۴۱ء۱۲؍ فیصد اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:پارل رائلز نے سن رائزرس کے خلاف کوالیفائر۲؍ طے کیا، جوبَرگ سپر کنگز ٹورنامنٹ سے باہر
یکم اپریل ۲۰۱۰ء کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) میں ملازمین کا حصہ ۱۰؍ فیصد سے بڑھا کر۱۴؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ خاندانی پنشن میں بھی یکساں طور پر۳۰؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو سرکاری گزٹ میں اشاعت کی تاریخ سے نافذ ہوگا۔ ان ترمیمات کے سبب پی ایس جی آئی سی پر تقریباً۳۰ء۸۱۷۰؍ کروڑ روپے کا مالی بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے۔ پی ایس جی آئی سی میں شامل اہم بیمہ کمپنیوں میں نیشنل انشورنس کمپنی، نیو انڈیا ایشورنس کمپنی، اورینٹل انشورنس کمپنی، یونائیٹڈ انڈیا انشورنس کمپنی، جنرل انشورنس کارپوریشن آف انڈیا اور ایگریکلچرل انشورنس کمپنی شامل ہیں۔