وزیراعظم کے حلقےکی حالت زار کی رپورٹنگ کرنے والی صحافی کیخلاف مقدمہ

Updated: June 20, 2020, 10:23 AM IST | Lucknow

اسکرول ڈاٹ ان کی صحافی سپریا شرما اور ایڈیٹر ان چیف کے خلاف اس لئے ایف آئی آر درج کی گئی ہے کہ انہوں نےوزیراعظم مودی کےحلقہ انتخاب میں واقع ان کے ذریعہ گود لئے گئے گائوں کی لاک ڈائون کے دوران زبوں حالی کی خبر شائع کی تھی، پرینکا گاندھی نے یوپی کی یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، اس کارروائی کو حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔

Mala Devi has registered an FIR. Photo: Scroll
مالا دیوی نے ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ تصویر: اسکرول

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز بنارس میں ایک صحافی کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آرکے تعلق سےیوگی حکومت کو تنقیدکا نشانہ بنایا اور کہا کہ سچائی سامنے لانے پر یو پی حکومت صحافیوں ، سابق افسران اور اپوزیشن لیڈران پر ایف آئی آر کروا رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’یو پی حکومت ایف آئی آر درج کر کے سچائی پر پردہ ڈال نہیں سکتی۔ زمینی سطح پراس وبا کے دوران زبردست بدانتظامی ہے۔سچائی دکھانےسے اس میں بہتری ممکن ہے لیکن یو پی حکومت صحافیوں پر، سابق افسران پر، اپوزیشن پر سچائی سامنے لانے کے لیے ایف آئی آر کروا رہی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے وزیراعظم نریندر مودی کے گود لئے گاؤں میں بھوک سے بدحال لوگوں پر خبربنانا اسکرال ویب سائٹ کی صحافی سپریا پر بھاری پڑگیا ہے۔ ان کے خلاف بنارس کے رام نگر تھانہ میں ایف آئی درج کی گئی ہے۔ 
 دراصل بنارس کے ڈومری گاؤں کی ایک خاتون مالا دیوی نےاسکول ڈاٹ اِن نامی نیوز پورٹل کی صحافی سپریا شرما اور مدیرکے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہےکیونکہ ان کی ایک رپورٹ میں مبینہ طور پر خاتون کی باتوں کو غلط طریقے سے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذات اور مالی حالت کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔
 کوتوالی کے مقامی افسر پردیپ سنگھ چنڈیل کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’’ڈومری گاؤں کی ایک خاتون نےگزشتہ ہفتہ رام نگر پولس اسٹیشن جا کرشکایت درج کرائی تھی جس کی بنیادپر ایک نیوزپورٹل کے چیف ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔‘‘افسر نے مزید بتایا کہ ’’یہ شکایت تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۶۹؍، ۵۰۱؍ اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ سپریا شرمانے خبروں کی ایک سیریز کے تحت بنارس کی حالت زار سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی تھی جو کہ وزیراعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب ہے۔ ’وزیراعظم مودی کے ذریعہ گود لئے گئے بنارس کے گائوں میں لاک ڈائون کے دوران عوام بھوکے رہے۔‘ کے زیر عنوان خبر میں انہوں نے ڈمری کی رہنے والی خاتون کا بیان نقل کیا تھا جن میں سے زیادہ تر میں ان کی زبوں حالی کا اندازہ ہوتا ہے۔ڈمری ان گائوں میں سے ایک ہے جسے وزیراعظم مودی نےسنسد آدرش گرام یوجنا کے تحت ’گود لیا‘ ہے۔
 سپریا شرما کی خبر میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ بے روزگاری کے مارے اس گائوں میں غریبوں کو کھانے جیسے بنیادی ضرورت کے بغیر گزارہ کرنا پڑرہا ہےکیوں کہ یہاں پر پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم(پی ڈی ایس) یا راشننگ نظام اپنی نا اہلی،ناکارہ انتظامی مشینری، ذات پات کے بھید بھائو اوربڑے پیمانے پر بدعنوانی کی وجہ سے کام نہیں کررہا ہے۔انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا تھا کہ ریاستی حکومت کے وعدے کے مطابق یہاں ریلیف کا کھانا بھی نہیں پہنچ رہا ہے۔

جرنلسٹ: سپریا شرما

 اس خبر کیلئے جن لوگوں سے انہوں نے بات کی تھی ان میں مذکورہ بالامالا دیوی بھی شامل ہیں ، جو ایک دلت گھریلو ملازمہ ہے اور ان کی آمدنی بھی لاک ڈائون کی وجہ سے بند ہوگئی ہے۔ سپریا شرما نے لکھا ہے کہ راشن کارڈ کے بغیر مالا کو انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل سکی اس لئے اسے مختلف قسم کے کام کرنا پڑے ،یہاں تک کہ اسے بنارس کی گلیوں میں بھیک تک مانگنا پڑی۔
 بہرحال سپریا شرمااور اسکرال ڈاٹ ان کے ایڈیٹر ان چیف کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آرمیں مالا نے ایسا کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ہے۔ ایف آئی آر میں اس نے کہا ہے کہ جب سپریا شرما اس کے گھر آئی تھیں تو اس نے کہا تھا کہ ’’نہ ہی مجھے اور نہ ہی میرے اہل خانہ کو کھانا اور پانی حاصل کرنے میں کوئی پریشانی درپیش نہیں ہوئی۔‘‘مالا نے ایف آئی آر میں الزام لگایا ہے کہ ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ سپریا شرما نے میرے تعلق سے جھوٹ لکھا ہے کہ میں جھاڑو پوچھے کا کام کرتی ہوں اور یہ کہ میں صرف چائے اور روٹی کھاکر سونے پر مجبور رہی ہوں ۔‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’آئوٹ سورسنگ‘ کے ذریعہ بنارس میونسپلٹی میں صفائی ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہوں ۔اپنی شکایت میں اس نے کہا ہے کہ یہ لکھ کر کہ میں اور میرے بچے لاک ڈائون میں بھوکے رہنے پر مجبور تھے سپریا شرما نے میری غریبی اور میری ذات کا مذاق اڑایا ہے جس کی وجہ سے میں ذہنی طور پر پریشان رہی ہوں ۔اس (خبر)نے سماج میں میری ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK