کیس واپس لینے کے بدلے میں اڈانی گروپ کو امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالرس ہی کی سرمایہ کاری بھی کرنی ہو گی۔ ۱۵؍ ہزار افراد کو روزگار بھی دینا ہو گا
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 1:07 AM IST | New York
کیس واپس لینے کے بدلے میں اڈانی گروپ کو امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالرس ہی کی سرمایہ کاری بھی کرنی ہو گی۔ ۱۵؍ ہزار افراد کو روزگار بھی دینا ہو گا
نیو یارک ٹائمز کی ایک سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق یونائٹیڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف جسٹس گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمات واپس لینے پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اڈانی گروپ کی جانب سے امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری سےمتعلق بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے حالیہ برسوں میں کسی ہندوستانی کاروباری گروپ کے خلاف چلنے والی سب سے نمایاں کارپوریٹ فراڈ تحقیقات اچانک ختم ہو سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، گوتم اڈانی نے حال ہی میں ایک نئی قانونی ٹیم مقرر کی ہے، جس کی قیادت رابرٹ گیفرا جونیئر کر رہے ہیں جوامریکی صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں اور معروف قانونی فرم’’ سلیوین کرام ویل‘‘ کے شریک چیئرمین بھی ہیں۔ اس مقدمے میں انہی کی مشاورت کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ گوتم اڈانی امریکہ میں نہ صرف ۱۰؍ بلین ڈالرس کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں بلکہ ۱۰؍ بلین ڈالرس تک کا ہرجانہ بھی ادا کرنے کو تیار ہیں۔ یاد رہے کہ گوم اڈانی پر فراڈ کے یہ الزامات نومبر ۲۰۲۴ء میں امریکی پراسیکیوٹرس کی جانب سے دائر فردِ جرم کے بعد سامنے آئے تھے جس میں گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر ساتھیوں پر تقریباً۲۶؍کروڑ ڈالر کی رشوت اسکیم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں محکمہ انصاف کے ہیڈکوارٹرس میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی جہاں رابرٹ گیفرا نے تقریباً ۱۰۰؍ سلائیڈز پر مشتمل پریزنٹیشن دی۔ اس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ کے پاس نہ تو بنیادی شواہد موجود ہیں اور نہ ہی اس کیس کو چلانے کا دائرۂ اختیار۔رپورٹ کے مطابق ایک سلائیڈ میں یہ غیرمعمولی پیشکش بھی کی گئی کہ اگر مقدمات واپس لے لئے جائیں تو اڈانی گروپ امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا اور ہرجانہ دینے کو بھی تیار ہے۔اسکے علاوہ تقریباً۱۵؍ ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرے گاجو امریکیوں کو ہی دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ وعدہ گوتم اڈانی نے ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد بھی کیا تھا لیکن اب وہ مقدمہ سے گلو خلاصی کے لئے یہ پیشکش دوبارہ کررہے ہیں۔ اس رپورٹ پر فی الحال اڈانی گروپ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔