واشو بھگنانی نے دعویٰ کیا ہے کہ گانا’’چُنری چُنری‘‘ کو فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے بنانے والوں نے غیر اخلاقی طریقے سے استعمال کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai
واشو بھگنانی نے دعویٰ کیا ہے کہ گانا’’چُنری چُنری‘‘ کو فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے بنانے والوں نے غیر اخلاقی طریقے سے استعمال کیا ہے۔
پوجا انٹرٹینمنٹ کے پروڈیوسر واشو بھگنانی، جنہوں نے ہدایتکار ڈیوڈ دھون کے ساتھ بیوی نمبروَن بنائی تھی، نے حال ہی میں ٹپس میوزک لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ فریقوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تاکہ ان کی فلموں اور گانوں کو غیر مجاز استعمال سے بچایا جا سکے، خاص طور پر’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کی ریلیز سے پہلے، جسے ٹپس نے پروڈیوس کیا ہے اور ڈیوڈ دھون نے ہدایت دی ہے۔ معزز عدالتِ سول جج (سینئر ڈویژن-I)، کٹیہار، بہار نے فی الحال تمام فریقوں کو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
فلم ریلیز ہونے کے برسوں بعد پروڈیوسرز کیسے کمائی کرتے ہیں؟
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے واشو نے اے این آئی سے گفتگو میں کہا کہ یہ ’’تمام پروڈیوسرز کی جیت‘‘ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دہائیوں تک ہندی فلم انڈسٹری اعتماد پر چلتی رہی، جہاں معاہدے تو بنتے تھے لیکن فیصلے زیادہ تر زبانی یقین دہانی پر کیے جاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو دہائیاں پہلے ڈیجیٹل دور آنے سے پہلے، فلم کے حقوق دو حصوں میں تقسیم ہوتے تھے: آڈیو رائٹس (جن میں آڈیو کیسٹ اور بعد میں سی ڈیز شامل تھیں)، ویڈیو رائٹس،آڈیو رائٹس موسیقی کمپنیوں کو مستقل بنیادوں پر دے دیے جاتے تھے، جبکہ ویڈیو رائٹس مختلف کمپنیوں کو پانچ سال کے لیے دیے جاتے تھے، جن کے بدلے پروڈیوسر تقریباً ۲۵؍ سے ۳۰؍ لاکھ روپے کرایہ وصول کرتے تھے۔ پانچ سال مکمل ہونے کے بعد یہ معاہدے دوبارہ طے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن اسٹریمنگ اتنا بڑا کاروبار بن جائے گی اور میوزک لیبلز بھی اپنے کاروبار کو وسیع کر لیں گے۔
جب حالات بدلنے لگے تو ’’خاندانی ماحول والی انڈسٹری‘‘ کے لوگ اکثر بیٹھ کر ان معاملات پر بات کرتے تھے۔ لیکن ۲۰۱۸ء میں واشو نے ٹپس سے کہا کہ وہ ان کی پرانی فلموں کے حقوق واپس کریں کیونکہ انہیں اس سے کوئی آمدنی نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ ناانصافی ہے۔‘‘ جب انہوں نے اس بارے میں سوال کیا توٹپس نے پوچھا کہ وہ ان حقوق کے بدلے کتنی رقم چاہتے ہیں، لیکن واشو نے کہا کہ وہ پہلے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ گزشتہ ۲۰؍ برسوں میں ٹپس نے ان کی فلموں سے کتنی کمائی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء فائنل: میڈونا، شکیرا اور بی ٹی ایس کا ہاف ٹائم شو
انہوں نے کہا ’’ہم نے ان سے کہا کہ آڈیو کے ذریعے جو بھی کمائی ہوئی، وہ ہماری نہیں کیونکہ ہم نے وہ حقوق ہمیشہ کے لیے آپ کو دے دیے تھے۔ لیکن ڈیجیٹل ویڈیو رائٹس ہمارے ہیں۔‘‘ یہ بحث کئی سال جاری رہی، لیکن واشو نے کبھی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا کیونکہ انڈسٹری برسوں سے اعتماد کی بنیاد پر چلتی آ رہی تھی۔ اسی دوران، واشو کی کمپنی نےقلی نمبروَن بنائی، جو ان کی ۹۰ء کی دہائی کی فلم کا ری میک تھی، اور اسے بھی ڈیوڈ دھون نے ہدایت دی چونکہ فلم نے زیادہ منافع نہیں کمایا، اس لیے باہمی طور پر طے پایا کہ ورون دھون جو فلم کے مرکزی اداکار اور ڈیوڈ دھون کے بیٹے ہیں پوجا انٹرٹینمنٹ کی دو فلموں میں کام کریں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہوا کہ ڈیوڈ کے بڑے بیٹے روہت دھون ان کی کمپنی کے لیے ایک فلم ڈائریکٹ کریں گے۔ اس کے بعد روہت اور جیکی بھگنانی (واشو کے بیٹے) نے بیوی نمبروَن کے ری میک پر کام شروع کیا، لیکن کچھ عرصے بعد دھون خاندان نے کہا کہ وہ اس فلم پر بعد میں واپس آئیں گے۔
ڈیوڈ دھون نے’’چُنری چُنری‘‘ کو ’غیر اخلاقی‘ طریقے سے استعمال کیا
تین ماہ بعد ڈیوڈ نے ٹپس کے ساتھ ایک نئی فلم سائن کر لی۔ واشو نے کہاکہ ’’ہم نے سوچا شاید انہیں وہاں سے زیادہ پیسے ملے ہوں گے۔ ہمیں دکھ ہوا، لیکن ٹھیک ہے۔‘‘لیکن چند برس بعد واشو کو معلوم ہوا کہ ڈیوڈ کی نئی فلم میں بیوی نمبروَن کے مشہور گانے ’’چُنری چُنری‘‘ کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔ جب انہوں نے روہت سے رابطہ کیا تو اس نے کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کیا۔ اور جب انہوں نے ورون سے بات کی تو جواب ملا ’’انہوں نے کہا کہ ہم بیوی نمبر وَن یا آپ کی کسی اور فلم کا ری میک نہیں بنا رہے لیکن ہم اس گانے کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟ پروڈیوسر نے ہم سے یہ گانا بنانے کو کہا ہے۔‘‘
واشو نے اس معاملے کو اخلاقی بنیادوں پر غلط قرار دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے بیوی نمبروَن بنانے میں اپنی محنت اور جذبات شامل کیے تھے، اور اب جب فلم کا سب سے مشہور گانا دوبارہ بنایا جا رہا تھا تو نہ انہیں مالی طور پر شامل کیا گیا اور نہ ہی مشورے میں۔
انہوں نے کہا ’’کچھ انسانیت بھی ہونی چاہیے۔ ہم نے بیوی نمبروَن ساتھ بنائی تھی اور وہ بہت بڑی ہٹ تھی۔ آپ نے وہ گانے میرے ساتھ شوٹ کیے تھے۔ تو جب آپ وہی گانے کسی اور کے ساتھ دوبارہ شوٹ کر رہے ہیں تو کم از کم مجھے فون کر کے بتا دیتے۔ کوئی بات چیت ہی نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ قانونی مسئلہ بھی ہے کیونکہ ان کے پاس ان حقوق کی ملکیت موجود ہے۔