Updated: May 15, 2026, 9:56 PM IST
| Kolkata
عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی، سرٹیفکیٹ کو لازمی قراردیاگیا،عیدالاضحی سے چند روز قبل بی جے پی کی حکومت کافیصلہ
مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کے بعد کئی طرح کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیںجن میں سے ذبیحہ کے تعلق سے پابندیاں بھی شامل ہیں۔مغربی بنگال میںنئی بی جے پی حکومت نےگائے،بیل اور بھینسوں کے عوامی مقامات پر ذبیحہ پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ ان جانوروں کے ذبح سے قبل سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرنابھی لازمی قرار دے دیاگیا ہے۔مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ وپہاڑی امور کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق ’کوئی بھی شخص کسی جانوربشمول گائے، بیل، بھینس، بھینسا اور بچھڑوں‘ کو اس وقت تک ذبح نہیں کر سکتا جب تک یہ سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر لیا جائےکہ جانور’ذبیحہ کے قابل‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے : مسلم لیگ کی رُکن اسمبلی فاطمہ تحلیہ کا ممتا بنرجی سے موازنہ ہو رہا ہے
سرٹیفکیٹ صرف اسی صورت میں جاری کیا جا سکتا ہےجب جانور’کام یا افزائش نسل کے لیے۱۴؍ سال سے زیادہ عمر کا ہو،یا عمر، چوٹ، جسمانی نقص یا کسی لاعلاج بیماری کےباعث مستقل طور پر ناکارہ‘ ہوچکا ہو۔نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ایسے جانوروں کو ’صرف میونسپل سلاٹرہاؤس یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے نامزد کسی دوسرے سلاٹر ہاؤس میں ہی ذبح کیا جا سکے گا‘ جبکہ کسی بھی کھلے عوامی مقام پر ذبیحہ ’سختی سے ممنوع‘ ہوگا۔مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ- ۱۹۵۰ءکے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کو۶؍ماہ تک قید، ایک ہزار روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقدین اس اقدام کو وسیع تر ہندوتوا سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ حکم عیدالاضحیٰ (بقرعید) سے چندہفتےقبل جاری کیا گیا ہے، جو قربانی کی مذہبی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔اگرچہ بی جے پی حکومت نے اس حکم کو موجودہ قانون اور عدالتی ہدایات پر عمل درآمد قرار دیا ہے، مگر مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کے وقت اور سخت نفاذ سے مسلم قصابوں، تاجروں اور روایتی قربانی کے طریقوں پر غیر متناسب اثر پڑ سکتا ہے۔یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بی جے پی حکومت مبینہ غیر قانونی مویشی منڈیوں،سلاٹر ہاؤسز اور بنگلہ دیش اسمگل کیے جانے والے مویشیوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کر رہی ہے، خاص طور پر سرحدی اضلاع جیسے مالدہ، مرشد آباد، اور شمالی و جنوبی۲۴؍ پرگنہ میں۔
یہ بھی پڑھئے : مودی نے اڈانی کے حق میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا: راہل گاندھی
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی فتح کےچند دن بعدکولکاتا کے نیو مارکیٹ علاقے میںگوشت کی کئی دکانیںمبینہ طور پر بی جے پی کی فتح کے جشن کے دوران بلڈوز کر دی گئی تھیں۔اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی حامیوں نےمسلم گوشت فروشوں کو نشانہ بنایا اور’بلڈوزر سیاست‘ کا مظاہرہ کیا۔ گئورکشا ایک عرصے سے ہندوتواسیاست کا ’اہم مسئلہ ‘رہی ہے، جہاںہندو قوم پرست گروہ اسے ہندو ثقافتی اور مذہبی اقدار کے تحفظ کا حصہ قرار دیتےہیں۔۲۰۱۴ء کے بعد ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ، مویشی اسمگلنگ یا گائے کا گوشت کھانے کے الزامات پر ہجومی حملوں اور لنچنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں ہندو شدت پسندگروہوں کے ہاتھوںدرجنوں مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہمات اور قوانین شدت پسند گروہوں کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مسلم فرقہ خصوصاً عیدالاضحی کےموقع پر خوف میں مبتلا ہوتے ہیں اور جھوٹے الزامات، ہراسانی اور ہجومی تشدد کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ اقلیتوں کے حقوق اور روزگار کے مقابلے میں ہندوتوا ترجیحات کو ادارہ جاتی شکل دی جاتی ہے۔