Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین کا عالمی برادری سے ’’ نکبہ‘‘ کو نسلی تطہیر کا جرم قرار دینے کا مطالبہ

Updated: May 15, 2026, 10:02 PM IST | Gaza

فلسطین کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے ’’نکبہ ‘‘کو نسلی تطہیر کے جرم کے طور پرتسلیم کرنے کا مطالبہ کیا،ساتھ ہی زور دے کر کہا کہ نکبہ اب بھی جاری ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 فلسطینی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ۱۹۴۸ءکے نکبہ کو اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف ‘نسلی تطہیر کے جرم’ کے طور پر تسلیم کرے، اور زور دے کر کہا کہ نکبہ ‘اب بھی جاری ہے’۔یہ مطالبہ جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے۱۵؍ مئی کو منعقد ہونے والی سالانہ یادگاری تقریب سے قبل جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔ وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ نکبہ کو ‘نسلی تطہیر کے جرم’ کے زمرے میں رکھے اور ‘اس کے نتائج کا ازالہ کرنے اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق’ کے حصول کے لیے کام کرے۔وزارت نے کہا کہ ان حقوق میں ‘خود ارادیت اور فلسطین کی ریاست کی آزادی شامل ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں یہودی انتہا پسندوں کا دھاوا، اشتعال انگیز جلوس نکالا گیا

واضح رہے کہ فلسطینی ‘نکبہ ۱۹۴۸ء میں جب فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی، تو اسرائیل کے ذریعےتقریباً ۹؍لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کو کہتے ہیںجو، ۱۳۰۰؍ قصبوں اور دیہاتوں میں رہتے تھے، اسرائیلیوں نے۱۹۴۸؍ میں۷۷۴؍ فلسطینی دیہات اور شہر اپنے قبضے میں لے لیے، ان میں سے۵۳۱؍ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور۷۰؍ سے زائد قتل عام کیے جس میں ۱۵۰۰۰؍سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔وزارت نے عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریوں اور ‘فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کرنے اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کی اہمیت’ سے بھی آگاہ کیا، جس میں نکبہ کو ‘انسانیت کے خلاف جرم قرار دینا بھی شامل ہے جسے کسی بہانے سے نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے، نہ جائز قرار دیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے’۔
وزارت نے زور دے کر کہا کہ ‘نکبہ محض ایک تاریخی المیہ نہیں بلکہ ایک جاری جرم ہے’، اور مزید کہا کہ یہ صرف ‘فلسطینیوں کا ان کی زمین سے ظالمانہ نسلی تطہیر اور جبری بے دخلی’ یا ‘قتل عام، قتل، تباہی، لوٹ مار، خلاف ورزیوں اور بے دخلی’ تک محدود نہیں ہے۔ وزارت نے کہا کہ نکبہ ‘ایک صیہونی نوآبادیاتی منصوبہ ہے جسے نوآبادیاتی طاقتوں نے تیار کیا تھا اور بالفور اعلامیہ میں اسے عملی شکل دی گئی تھی جس کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے اکھاڑ پھینکنا، ان کی شناخت مٹانا اور ان کی جگہ غیر قانونی یہودی آبادکاروں کو لانا تھا۔ واضح رہے کہ بالفور اعلامیہ سے مراد وہ خط ہے جو اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے۲؍ نومبر ۱۹۱۷؍ کو لارڈ لیونل روتھ چائلڈ، جو اس وقت صیہونی تحریک کے لیڈرتھے، کو بھیجا تھا، جس میں برطانوی حکومت نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے قومی وطن کے قیام کی حمایت کا وعدہ کیا تھا۔بعد ازاں وزارت نے زور دیا کہ عالمی برادری کا فرض ‘صرف فلسطینی قضیے کی حمایت تک محدود نہیں ہے بلکہ فلسطینی عوام کے تحفظ اور اس طرح کے خوفناک جرائم کے دوبارہ ہونے سے روکنے تک پھیلا ہوا ہے’۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: اپوزیشن جماعتوں نے اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندی کا بل پیش کیا

جمعہ کو فلسطینیوں نے نکبہ کی ۷۸؍ویں برسی منائی۔ ہر سال، فلسطینی برسی کی یاد میں فلسطینی علاقوں اور دنیا بھر میں مارچ، نمائشوں اور عوامی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ اپنے حقوق، خاص طور پر لاکھوں پناہ گزینوں کے واپسی کے حق پر زور دے سکیں۔عرب اور غیر ملکی ممالک میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں بھی ایسی ہی تقریبات ہوئیں، جہاں شرکاء نے۱۹۴۸ء میں بے گھر کیے گئے فلسطینی دیہات اور شہروں کے ناموں کی تختیاں اٹھائیں، واپسی کے حق کی توثیق کی اور بے دخلی کو مسترد کیا۔
ذہن نشین رہے کہ نکبہ کی اس سال کی برسی اس وقت منائی جا رہی ہے جب اسرائیل۲۰۲۳ء سے غزہ میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی سرکاری رپورٹوں کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد بھی بڑھ گیا ہے، جس میں دیہات پر حملے، آتش زنی، درخت اکھاڑنا، اور اسرائیلی فوجی تحفظ کے تحت کسانوں کو ان کی زمین تک پہنچنے سے روکنا شامل ہے، ۔ فلسطینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں ‘منظم کشیدگی’ کا حصہ ہیں جس کا مقصد زمین پر نئی یہودی بستی مسلط کرنا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو ختم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK