چین کے سرکاری نشریاتی ادارے (سی سی ٹی وی) اور فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے جمعہ کو باضابطہ اعلان کیا ہے کہ چین نے رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء اور ۲۰۳۰ءکے ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 9:00 PM IST | Beijing
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے (سی سی ٹی وی) اور فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے جمعہ کو باضابطہ اعلان کیا ہے کہ چین نے رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء اور ۲۰۳۰ءکے ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے (سی سی ٹی وی) اور فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا نے جمعہ کو باضابطہ اعلان کیا ہے کہ چین نے رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء اور ۲۰۳۰ءکے ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد فٹبال کے دیوانے ملک چین میں کروڑوں مداحوں کا طویل اور بے چینی سے بھرا انتظار ختم ہو گیا ہے۔
ورلڈ کپ کے آغاز میں اب ایک ماہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، اور اس تاخیر سے طے پانے والے معاہدے سے قبل چین کے کروڑوں فٹبال فینز اس تشویش میں مبتلا تھے کہ وہ میچز کیسے دیکھ پائیں گے۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت مردوں کے ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء اور۲۰۳۰ء کے ساتھ ساتھ ویمنز ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء اور ۲۰۳۱ء کے نشریاتی حقوق بھی شامل کیے گئے ہیں۔‘‘
فیفا اور سی سی ٹی وی کی بنیادی کمپنی چین میڈیا گروپ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور موبائل پلیٹ فارمز پر میچز دکھانے کے حقوق شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ میگا ٹورنامنٹ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا، جس میں ۴۸؍ ٹیمیں حصہ لیں گی اور مجموعی طور پر ۱۰۴؍ میچز کھیلے جائیں گے۔ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز ۱۱؍ جون کو جنوبی افریقہ اور میکسیکو کے درمیان افتتاحی میچ سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:اگلے جیمز بانڈ کی تلاش شروع: آڈیشنز باضابطہ طور پر جاری
اس سال چینی ٹیم ورلڈ کپ کا حصہ نہیں ہے، لیکن چین میں فٹبال کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیفا کے مطابق، قطر ورلڈ کپ ۲۰۲۲ء کے دوران دنیا بھر میں ڈجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھے گئے کل گھنٹوں کا۸ء۴۹؍ فیصد حصہ صرف چینی صارفین پر مشتمل تھا۔ فیفا کے سکریٹری جنرل متیاس گرافسٹروم نے اپنے بیان میں کہا’’عالمی فٹبال برادری کے لیے چینی مارکیٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ معاہدہ ڈجیٹل کوریج کے ذریعے نوجوان نسل کو فٹبال سے جوڑنے کی فیفا کی کوششوں میں ایک بڑا قدم ہے۔‘‘
سی سی ٹی وی نے معاہدے کی رقم اور تاخیر کی وجوہات کو خفیہ رکھا ہے، تاہم چینی میڈیا آؤٹ لیٹ دی پیپر نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس ڈیل کی مالیت تقریباً ۶۰؍ ملین امریکی ڈالر ہے۔ سوشل میڈیا پر مداحوں کے درمیان اس رقم کو لے کر بحث جاری ہے، جہاں کچھ لوگ ایک ساتھ دو ورلڈ کپ کے حقوق ملنے پر خوش ہیں، وہیں کچھ کا ماننا ہے کہ یہ رقم عوامی فلاح پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اٹالیئن اوپن ۲۰۲۶ء: ایلینا سویتولینا تیسری بار فائنل میں، خطابی مقابلہ کوکو گاف سے ہوگا
فیفا کو توقع ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے ریکارڈ ۱۱؍ بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کرے گا۔ بیجنگ اور شنگھائی کے وقت کے مطابق، ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ اور فائنل رات گئے ۳؍بجے نشر کیا جائے گا۔ اتوار کے روز ایک تقریب میں اس کوریج کے تفصیلی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔