ملک میں اب بھی کیش لین دین کو ہی ترجیح حاصل ہے

Updated: February 26, 2020, 3:42 PM IST | Agency | New Delhi

ریزرو بینک آف انڈیا کی داخلی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں اب بھی کیش میں ہی لین دین کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ملک میں اب بھی کیش لین دین کو ہی  ترجیح حاصل  ہے ۔ تصویر : آئی این این
ملک میں اب بھی کیش لین دین کو ہی ترجیح حاصل ہے ۔ تصویر : آئی این این

 نئی دہلی : ریزرو بینک آف انڈیا کی  داخلی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں اب بھی کیش میں ہی لین دین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن میں گزشتہ کچھ برس میں اضافہ ہوا ہے لیکن  نقد لین دین اب بھی عوام الناس کی ترجیح ہے اور وہ اس سےمستقبل قریب میں پیچھے ہٹتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ آر بی آئی کی داخلی رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۱۹ء تک ملک میں سرکیولیشن میں ۲۲ء۳؍ کھرب روپے تھے جو اب مزید بڑھ گئے ہوں گے۔ حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۱۹ء میں  بینک کا اندازہ تھا کہ سرکیولیشن میں  جو رقم ہو گی وہ ۲۶؍ کھرب روپے کے آس پاس ہو گی لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے بینک کو  داخلی سروے کروانا پڑا۔ اسی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ عام شہریوں نے پوری طرح سے تو نہیں لیکن اپنے تمام ٹرانزیکشن میں سے ۲۰؍ فیصد تک ٹرانزیکشن ڈیجیٹل طریقے سے کئے ہیں جس کی وجہ سے سرکیولیشن میں استعمال ہونے والی کرنسی میں امید کے مطابق اضافہ نہیں ہوا ۔سروے کے مطابق  گزشتہ ۵؍ برس میں اے ٹی ایم سے کیش نکالنے کے معاملات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔  جی ڈی پی سے  اے ٹی ایم کیش کا تناسب اگر دیکھا جائے تو یہ ۱۷؍ فیصد ہے جو چین کے برابر ہے۔
 ریزرو بینک نے اپنی داخلی رپورٹ میں کہا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سےڈیجیٹل ٹرانزیکشن تو بڑھ گئے تھے لیکن جیسے ہی پابندی ختم ہوئی ملک میں دوبارہ کیش کا استعمال بڑھنے لگا۔ اسے اس تناسب سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ۲۰۱۶ء میں جی ڈی پی اور  کیش کا تناسب ۸ء۷۰؍ فیصد تک پہنچ گیا تھا لیکن ۲۰۱۷ء میں یہ ۱۰ء۷۰؍ فیصد اور۲۰۱۸ء میں  ۱۱ء۲؍ فیصدہو گیا ۔ حالانکہ یہ نوٹ بندی کے پہلے کے دور یعنی ۱۲ء۱؍  فیصد تک نہیں پہنچ سکا ہے جسے ریزرو بینک کی جانب سے نوٹ بندی کا فائدہ قرار دیا جارہا ہے۔
 اس بارے میں نوٹ بندی پر تنقید کرتے رہنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریزرو بینک خود یہ تسلیم کررہا ہے کہ کیش کا چلن نوٹ بندی سے قبل کے دو ر کے برابر نہیں پہنچ سکا ہے۔ یہ سب سے بڑی پریشانی ہے کیوں کہ نوٹ بندی سے قبل ملک میں کیش کا استعمال زیادہ تھا لیکن اس کی وجہ سےمعاشی سرگرمیاں بھی تیزی کے ساتھ جاری تھیں لیکن نوٹ بندی نے انہیں ایسا بریک لگایا کہ اب تک معیشت اس سے ابھر نہیں سکی ہے بلکہ اب تو معاشی حالات اور خراب ہونے کی جانب گامزن ہیں اور سرکار کچھ نہیں کر پارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK