• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹرکے چیف الیکٹورل آفیسرکے مکتوب سے بھی ووٹر لسٹ پرمرکزی کنٹرول بے نقاب

Updated: September 30, 2026, 9:03 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ایس آئی آر سے متعلق کارروائیوں کے دوران الیکشن کمیشن سے ’ای سی آئی نیٹ‘ پر ۴؍ امور پر الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس کے اختیار کو بحال کرنے کی اپیل کی۔

Chief Electoral Officer Chokalingam. Photo: INN
چیف الیکٹورل آفیسر چوکا لنگم۔ تصویر: آئی این این

انتخابی فہرستوں کی تیاری پر مرکزی کنٹرول  سے متعلق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کی تصدیق مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) چوکالنگم  کے  ذریعہ ۲۴؍ اکتوبر کو  الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کو لکھے گئے مکتوب سے بھی ہوگئی ہے۔   مذکورہ مکتوب کا انکشاف بھی انڈین ایکسپرس نے ہی منگل (۲۹؍ ستمبر) کی اشاعت میں کیا ہے۔اس انکشاف کےبعد مہاراشٹر کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔‘‘ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسرچوکالنگم کا مکتوب بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کے  سافٹ ویئر’’ای سی آئی نیٹ‘‘ کے تعلق سے ہے ، جس کا ایس آئی آر  میں کلیدی رول ہے۔ مکتوب میں  سافٹ ویئر میں ۴؍ تبدیلیوں کی درخواست کی گئی ہے اور ہر  درخواست یہ چاہتی ہے کہ سافٹ ویئر الیکٹورل رجسٹریشن  افسران کو اپنے طور پر فیصلے اوراس صوابدید  کے استعمال  کی اجازت دے جو قانون پہلے ہی انہیں دیتا ہے۔  انڈین ایکسپریس  کے مطابق    چوکالنگم کی درخواست ہے کہ ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر) یہ فیصلہ کر سکیں کہ کن ”منطقی تضادات“  میں سماعت ضروری  ہے اور کن میں  نہیں، کون سے دستاویزات قبول کئے جائیں  اور کن منطقی تضادات کو وہ خود نمٹا سکتے ہیں۔یہ کم و بیش وہی امور ہیں جن کی نشاندہی بقیہ دو الیکشن کمشنر بھی کر چکے ہیں۔

 کن ۴؍ امور پر اختیارات کی بحالی کی مانگ کی گئی
 ای آر اوکو اختیار دیا جائے کہ وہ تسلی بخش دستاویزات جمع کرانے والے ووٹر کو  سماعت سے مستثنیٰ قرار دے سکے۔
 الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ ۱۳؍ دستاویزات کے علاوہ ’’دیگر / مساوی دستاویز ‘‘بھی قبول کرنے کا متبادل  دیا جائے۔
  اگر ای آر او دستیاب شواہد سے مطمئن ہو تو اسے بعض ”منطقی تضادات“ کے معاملات خود نمٹانے کی اجازت ہو، ہر معاملہ ڈی ای او کی تصدیق کیلئےبھیجنا لازمی نہ ہو۔
 ہر منطقی تضاد کےمعاملہ میں’سابقہ ایس آئی آر کی نقل ای سی آئی نیٹ پر   اپ لوڈ کرنا لازمی نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK