Updated: September 29, 2026, 10:14 PM IST
| Tehran
ایرانی ریال منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جب آزاد مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت۲۵؍ لاکھ ریال سے اوپر چلی گئی، یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ پیر کے روز بھی ڈالر۲۴؍ لاکھ ریال کی سطح کو عبور کر چکا تھا۔ بھاری امریکی پابندیوں، بلند افراط زر اور معاشی دباؤ نے ریال کی قدر کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایران کی آزاد فارن ایکسچینج مارکیٹ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پاشیزی کے مطابق منگل کو کاروبار کے دوران ڈالر۲۵؍ لاکھ۴۲؍ ہزار ریال پر ٹریڈ ہوا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں۳؍ اعشاریہ ۸۴؍ فیصد زیادہ ہے۔ دن کے دوران ڈالر کی قیمت۲۵؍ لاکھ۴۸؍ ہزار ریال کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچ گئی۔واضح رہے کہ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ پیر کے روز بھی ڈالر۲۴؍ لاکھ ریال کی سطح کو عبور کر چکا تھا۔ جبکہ بھاری امریکی پابندیوں، بلند افراط زر اور معاشی دباؤ نے ریال کی قدر کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر شکوک و شبہات میں اضافے کےدرمیان ٹرمپ کا بیان: ”انہیں ہم پر ایٹمی ہتھیار سے حملہ کرنےدو“
بعد ازاں معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی میں مزید کمزوری فروری میں شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد دیکھی گئی ہے، کیونکہ جنگ اور امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ جبکہ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کٹاؤ نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔تاہم ریال کی قدر میں یہ تازہ ترین کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ثالث واشنگٹن اور تہران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور اس کی بندش سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بحران پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کیلئے اٹھایا گیا قدم ہے: ایرانی صدر
ایران میں عام شہریوں کو کرنسی کی گراوٹ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے کے دعووں کے باوجود بازار میں بے یقینی کی کیفیت برقرار ہے اور سرمایہ کار محفوظ کرنسی کے طور پر ڈالر کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔