Updated: September 29, 2026, 10:43 PM IST
| New Delhi
دہلی کے جنتر منترپر مسلم سیاستدانوں اور ملی تنظیموں کے لیڈروں نے ملک میں اقلیتوں پر ظلم، ایس آئی آر اور مساجد پر ہو رہے حملوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ، دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی ، تاہم تما م لیڈروںسمیت اراکین پارلیمنٹ اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا، جنہیں شام میں رہا کردیا گیا
مسلم اراکین پارلیمان احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں۔ تصویر: ایکس
مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر مسلسل حملوں، ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آراور پسماندہ طبقات پر ہورہے تشدد کے خلاف منگل کو نئی دہلی کے جنتر منتر پرایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ دہلی پولیس نے کئی مظاہرین اور خواتین کے ساتھ اراکینِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق، محب اللہ ندوی اور اقراء منور حسن کو حراست میں لیا، جنہیں شام تک رہا کر دیا۔احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سویل رائٹس (اے پی سی آر) کے قومی سیکرٹری ندیم خان کو صبح ساڑھے نو بجے سے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز (ایم سی آئی ایم) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس احتجاج میں اراکینِ پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے ارکان، سماجی کارکنان اور مسلم تنظیموں کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ شامل ہونے والوں میں کیرانہ سے رکنِ پارلیمنٹ اقراء منور حسن، سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق، رام پور کے ایم پی محب اللہ ندوی، جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی، سابق رکنِ پارلیمنٹ کنور دانش علی، اے آئی ایم آئی ایم دہلی کے صدر ڈاکٹر شعیب جمعئی، معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن اپوروانند، کانگریس کی میناکشی سنگھ اور جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان شامل تھے۔حراست میں لئےجانے والے دیگر اہم افراد میںاسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن( ایس آئی او )کے صدر عبدالحفیظ اور اے پی سی آر مدھیہ پردیش کے ضیاء پٹھان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرئٹرنٹی موومنٹ کے قومی جنرل سیکرٹری لبیب بشیر کے ساتھ فرحان، عاصم، ربیع اور ایان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
بعد ازاں اقلیتی مسائل پر حکومت کے رویے کو نشانہ بناتے ہوئے کیرانہ سے رکنِ پارلیمنٹ اقراء منور حسن نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور قانون کو سمجھنے والے افسران کو حکومت کے اشاروں پر غلامانہ انداز میں کام نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’انتظامیہ جو کہ پڑھی لکھی ہے اور قانون جانتی ہے، وہ حکومت کی ایماء پر غلاموں کی طرح کام کر رہی ہے۔ یہ مکمل طور پر امتیازی سلوک ہے اور ہمارا ملک اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنی مساجد، مدارس، قبرستانوں اور دیگر اداروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق نے احتجاج پر دہلی پولیس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری یہ لڑائی آخری سانس تک جاری رہے گی اور ہم اپنے لوگوں کو انصاف ملنے تک لڑتے رہیں گے۔‘‘ مظاہرین نے اس موقع پر’’اقلیتوں کو امن سے جینے دو‘‘، ’’بلڈوزر کارروائی بند کرو‘‘ اور’’مساجد پر حملے بند کرو‘‘ جیسے شدید نعرے لگائے۔ حراست میں لی گئی ایک خاتون مظاہرین نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے تشدد پر سوال اٹھانے آئے تھے، لیکن ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہر جگہ مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہے۔ ایسا کیوں کیاجا رہا ہے؟ ہم یہاں صرف یہ سوال پوچھنے آئے تھے، لیکن انہوں نے ہمیں کچھ بولنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا۔‘‘ فرئٹرنٹی موومنٹ کے جنرل سیکرٹری لبیب بشیر نے کہا کہ پولیس نے پہلے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا اور پھر اراکین ِ پارلیمنٹ اور کمیونٹی کے رہنماؤں سمیت تمام مظاہرین کو حراست میںلے لیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
واضح رہے کہ یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایک دن پہلے ہی مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سمہاستھا ۲۰۲۸؍ کی مناسبت سے سڑک کی کشادگی کے نام پر بلڈوزر کارروائی سے بچنے کیلئے مسلمانوں کو تاریخی شاہی مسجد کے کچھ حصوں کو خود سے ہٹانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔