والدین اور سرپرست اس عجیب وغریب اقدام پر برہم، پرنسپل نے اسکول سپرنٹنڈنٹ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 3:49 PM IST | Agency | Chandrapur
والدین اور سرپرست اس عجیب وغریب اقدام پر برہم، پرنسپل نے اسکول سپرنٹنڈنٹ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا۔
مہاراشٹر کے چندرپور ضلع کے ایک سرکاری آشرم اسکول میں تقریباً۸۲؍ طلبہ کوعجیب وغریب سزا دی گئی ہے۔اسکول انتظامیہ نے ان بچوں کا آدھا سر منڈوادیا ہے۔ یہ واقعہ سنیچر کے روز چمُر تعلقہ کے جمبھُل گھاٹ میں واقع سرکاری سیکنڈری آشرم اسکول میں پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جب بچوں کے بال کاٹنے کا عمل جاری تھا، اس دوران کچھ طلبہ کھیل رہے تھے۔ بچوں کے اس رویے پر اسکول کے سپرنٹنڈنٹ ناراض ہو گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے نائی کو بچوں کے بال آدھے سرکاٹنے کی ہدایت دی۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کے بال کاٹنے کے لئے ’ٹریمر‘ کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے بال ٹیڑھے میڑھے اور بے ترتیب ہو گئے۔ طلبہ کے عجیب و غریب اور آدھے ادھورے بالوں کی تصاویر سامنے آنے کے بعد یہ پورا معاملہ منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد والدین میں شدید غصہ پھیل گیا۔تصاویر سامنے آنے کے بعد مبینہ طور پر اعلیٰ حکام نے اسکول سے رابطہ کیا اور ہدایت دی کہ طلبہ کے بال مناسب اور یکساں انداز میں کاٹے جائیں۔ اس کے بعد رات دیر گئے دوبارہ بچوں کے بال کاٹے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: لاتور کے وڈوال گاؤں میں پانی کا بحران، گھنٹوں قطار میں لگنا پڑ رہا ہے
خبروں کے مطابق یہ عمل رات تقریباً۱۱؍ بجے شروع ہوا، جب کچھ طلبہ سونے کی تیاری کر رہے تھے، اور اتوار کی صبح تقریباً۴؍ بجے تک جاری رہا۔ اسکول کے پرنسپل پرشانت گری نے اس واقعے پر سپرنٹنڈنٹ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ اسکول سپرنٹنڈنٹ پرشانت میشرام نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد میں لیا گیا تھا اور اسکے پیچھے کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی وجہ سے طلبہ کچھ عرصے سے باقاعدگی سے بال نہیں کٹوا پا رہے تھے۔
غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
اس پورے معاملے پر طلبہ کے والدین نے تفصیلی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف وجہ بتاؤ نوٹس تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ تحقیقات میں جو بھی شخص قصوروار پایا جائے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔