قربانی کے دنوں میں صدقہ قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا

Updated: July 12, 2020, 8:54 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

سوشل میڈیا اور دیگر حوالوں سے اس طرح کی خبروں سے متعلق مفتیان کرام کی وضاحت۔ حکومت نے اب تک واضح نہیں کیاکہ قربانی کا کیا طریقہ ہوگا

Eid al Adha - Pic : INN
عیدالاضحی۔ تصویر : آئی این این

عید الاضحٰی کے ایام قریب آتے جا رہے ہیں اور‌ موجودہ حالات میں  لوگ اس کے منتظر ہیں کہ حکومت قربانی کے تعلق سے واضح اعلان کرے تاکہ ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات اور قیاس آرائیاں ختم ہوسکیں ۔ دوسری جانب قربانی جیسے اہم اور مقدس فریضے کی ادائیگی کے تعلق سے سوشل میڈیا اور دیگر حوالوں سے اسے موضوع بحث بنایا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں غریبوں اور پریشان حال لوگوں میں قربانی کی رقم صدقہ کر دینی چاہئے۔چنانچہ نمائندۂ انقلاب نے اس بحث کے تعلق سے مفتیان کرام سے رابطہ قائم کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ  اس کی اصل کیا ہے۔کیا اس کی گنجائش ہے ۔  شریعت میں قربانی کے تعلق سے کیا احکامات دیئے گئےہیں اور کیا قربانی کی رقم صدقہ کر کے غریبوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ جواب میں مفتیان کرام نے وضاحت کی کہ قربانی واجب ہے اور صدقہ قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ مزید تفصیلات ذیل میں درج کی جارہی ہیں۔
 مفتی محمود اختر قادری(خطیب و امام حاجی علی کنارہ مسجد) نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عجیب و غریب قسم کی  اور من گھڑت باتیں زیادہ عام ہونے لگی ہیں ۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت کے پاکیزہ اصول مسلم ہیں  اور قربانی کے دنوں میں ہر مالک نصاب کو قربانی ہی کرنی ہے۔ قربانی کی رقم نہ تو صدقے کے طور پر دی جا‌ سکتی ہے اور نہ ہی صدقہ قربانی کا بدل ہو سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ قربانی میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ نام و نمود کی خاطر بہت مہنگے جانور خریدے جاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ گھر میں جتنے لوگ بھی مالک نصاب ہیں  سب کے نام سے یہ مقدس فریضہ ادا کیا جائے۔
 مفتی عزیر الرحمن فتح پوری نے کہا کہ جن پر  قربانی واجب ہے انہیں قربانی ہی کرنی ہے کسی اور طریقے سے یہ واجب ادا نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ حکومت کوئی نظم کرے ۔ اس کے باوجود اگر یہاں انتظام نہ ہو سکے تو دوسری جگہ حصے والی قربانی میں شریک ہوکر قربانی کروائیں۔  انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نفلی قربانی کے تعلق سے فقہاء اور علماء کی رائے یہ ہے کہ حالات کے پیش نظر اس پر عمل کیا جائے۔ چنانچہ نفلی قربانی کے تعلق سے  زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں اس رقم کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے۔
 مفتی سلیم اختر مجددی نے بتایا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ لوگ شرعی مسائل کو مستند علماء سے سمجھے بغیر اپنے طور پر ہی نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں اور پھر اسے عام بھی کرنے لگتے ہیں ۔ قربانی کے مسئلے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ قربانی واجب ہے اور اس کی ادائیگی قربانی کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے کوئی اور عمل یا طریقہ اس کا بدل ہرگزنہیں ہوسکتا۔یہ الگ بات ہے کہ تمام کوشش کے باوجود قربانی کے تینوں دن جب گزر جائیں اور قربانی کی کوئی صورت نہ نکل سکے اس کے بعد یہ رقم صدقہ کی جاسکتی ہے۔ 
 مولانا عبدالسلام سلفی نے کہا کہ شریعت کے اصول کے مطابق مخصوص جانوروں کے سوا کسی اور جانور کی قربانی صحیح نہیں تو اس کی جگہ مالی صدقہ کیسے صحیح ہوگا۔صدقات و خیرات  کے مستقل احکامات ہیں ان کو قربانی سے جوڑنا صحیح نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں ۱۰؍سال حیات رہے اور آپ ہر سال قربانی کا اہتمام فرماتے رہے جبکہ اس دور میں غربت بے انتہا تھی اس کے باوجود قربانی کے بدلے میں صدقہ کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قربانی میں احراق دم یہ شعار ہے اسلام کی ایک نشانی ہے اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔
 مفتی محمد اشفاق قاضی(دارالافتاء ممبئی جامع مسجد) نے کہا کہ بلا شبہ قربانی کے ایام میں ہر صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اور اسے ان ایام میں اس فریضے کی ہی ادائیگی کرنی چاہیے کوئی اور عمل یا کار خیر کادوسرا طریقہ قربانی کا بدل نہیں ہو سکتا ۔جہاں تک پریشان حال لوگوں کی مدد کا‌معاملہ ہے تو اس کے مختلف طریقے ہیں اور صاحب استطاعت اس میں مصروف بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK