Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھگن بھجبل کنارے، راجندر جین کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ

Updated: June 09, 2026, 8:56 AM IST | Mumbai

این سی پی (اجیت)نے بھجبل کی اس شرط کو نامنظور کر دیا کہ انہیں راجیہ سبھا کاٹکٹ ملنے کی صورت میں سمیر بھجبل کو ریاستی کابینہ میں وزیر بنایا جائے، سینئر لیڈر کا اظہار ناراضگی

Rajendra Jain (inset) has been nominated to replace Chhagan Bhujbal (file photo)
چھگن بھجبل کی جگہ راجندر جین ( انسیٹ) کو امیدوار بنایا گیا( فائل فوٹو)

 بالآخر این سی پی (اجیت) نے  راجیہ سبھا  کے ضمنی الیکشن کیلئے امیدوار کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے بھنڈارا سے راجندر جین کو امیدوار بنایاہے۔ پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد سنیل تٹکرے نے امیدوار کے نام کا اعلان کیا ۔  این سی پی چھگن بھجبل کو ٹکٹ دینا چاہتی تھی لیکن بھجبل کی اس شرط کے سبب پارٹی نے ارادہ بدل دیا کہ اگر وہ راجیہ سبھا جاتے ہیں تو ان کی جگہ ان کے بھتیجے سمیر بھجبل کو ریاستی کابینہ میں شامل کیا جائے۔ 
    این سی پی( اجیت) کی کور کمیٹی کا اتوار کے روز ممبئی میں اجلاس ہوا۔ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں این سی پی کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے، قومی کارگزار صدر پرفل پٹیل، چھگن بھجبل، سمیر بھجبل، دلیپ ولسے پاٹل سمیت کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا کا ٹکٹ   کسے دیا جائے اس پر طویل بحث ہوئی۔  چھگن بھجبل کے علاوہ بیڑ کے امرسنگھ پنڈت اور بھنڈارا کے راجندر جین کے نام پر زیر غور تھے ۔پارٹی کے سینئر لیڈران چھگن بھجبل کو راجیہ سبھا بھیجنے پر بضد تھے اور ریاستی کابینہ میں ان کی جگہ سمیر بھجبل کو وزیر بنانا چاہتے تھے لیکن بی جے پی اعلیٰ کمان نے سمیر بھجبل کو وزیر بنانے سے پہلے ہی انکار کر دیا تھا۔ پارٹی اس بات پر راضی تھی کہ چھگن بھجبل کو راجیہ سبھا بھیجا جائے لیکن سمیر بھجبل کو وزیر بنانے کیلئے تیار نہیں تھی۔ جبکہ چھگن بھجبل نے یہ شرط رکھی کہ وہ راجیہ سبھا اسی صورت میں جائیںگے جب ان کی جگہ سمیر بھجبل کو ریاستی کابینہ میں جگہ دی جائے۔  طویل بحث کے بعد بھنڈارا کے راجندر جین کے نام پر مہرلگائی گئی۔این سی پی کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجندر جین کے نام کا اعلان کیا۔  اس اعلان کے بعد چھگن بھجبل میڈیا سے بات کئے بغیر چلے گئے۔ سمیر بھجبل بھی ان کے ساتھ فوراً دیوگیری بنگلہ چھوڑ گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ بھجبل اور راجندر جین وغیرہ کے علاوہ میٹنگ میں نونیت رانا کے نام پر بھی گفت وشنید ہوئی۔ لیکن آخری وقت میں راجندر جین کو امیدوار نامزد کر دیا گیا۔
 بھجبل کا اظہار ناراضگی
 پیر کے روز چھگن بھجبل نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں انہوں نے اپنے دل کی تمام حسرتیں بیان کیں۔  چھگن بھجل نے پارٹی کے دیگر لیڈران کا نام لئے  بغیرکہا کہ انہیں بھی ان لیڈران کی طرح ہی انصاف (موقع) ملنا چاہئے۔ میڈیا نے چھگن بھجبل سے سوال کیا کہ کیا  آپ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے؟ اس پر سینئر لیڈر نے کہا’’ کیسی نا انصافی؟ یہ تو اب چلتا ہی رہے گا۔ ہماری پالیسی ہے کہ آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو  پرسوں۔ میں کبڈی کا کھلاڑی ہوں،  شطرنج کا کھلاڑی نہیں ہوں۔‘‘ یہ پوچھنے پر کہ آخراین سی پی نے آپ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ کیوں نہیں دیا؟ چھگن بھجبل نے کہا، ’’بی جے پی کے پاس میری تجویز پر غور کرنے کیلئے صرف ایک دن تھا۔میری تجویز تھی کہ مجھے راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیا جائے اور میری جگہ سمیر بھجبل کو ریاستی وزیر بنایا جائے۔ اس پر بی جے پی نے جواب دیا کہ وہ سمیر بھجبل کو وزارت دینے پر پر تب غور کریں گے جب کابینہ کی توسیع کی جائے گی، اسلئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بی جے پی نے میری تجویز مسترد کر دی اور اس میں ناراض ہونے والی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ بھجبل کے اس بیان کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ پارٹی چاہتی تو سمیر بھجبل کی وزارت کا وعدہ کرکے انہیں راجیہ سبھا کا ٹکٹ دے سکتی تھی۔ 
   چھگن بھجبل نے پارٹی میں کسی لیڈر کا نام نہیں لیا۔ البتہ انہوں نے یہ کہا کہ دیگر لیڈران لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں رکن ہیں اور ان کے بچے ریاست میں وزیر۔ لہٰذا مجھے بھی انہی کی طرح انصاف ( یعنی موقع) ملنا چاہئے۔ ریاستی وزیر کے اس بیان سے اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) میں کون کون سے لیڈر ہیں جو خود راجیہ سبھا میں ہیں اور جن کے بچے فی الحال ریاست میں وزیر ہیں؟ ہر کوئی یہ پوچھ رہا ہے کہ آخر چھگن بھجبل کس لیڈر کی بات کر رہے ہیں؟ شاید سنیل تٹکرے کی جو رکن پارلیمان ہیں اور ان کی بیٹی ریاستی کابینہ میںوزیر ۔ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر مہاراشٹر آگئیں اور ان کی جگہ پہلے ہی پارتھ پوار راجیہ سبھا پہنچ چکے ہیں۔ ہر چند کہ بھجبل اس بات سے انکار کرتے رہے کہ وہ پارٹی سے ناراض ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے خود پریس کانفرنس منعقد کرکے اس تعلق سے بیان دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے دہلی جانےکا موقع گنوا دیا جہاں انہیں مستقبل میں وزیر بھی بنایا جا سکتا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK