Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایچ ڈی ایف سی بینک کو گورننس میں بڑے اصلاحات کی ضرورت : ماہرین

Updated: July 28, 2026, 7:02 PM IST | Mumbai

کارپوریٹ گورننس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ ڈی ایف سی بینک کو سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے صرف پرانے تنازعات ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بینک کو اپنی کارپوریٹ گورننس، داخلی نظام اور بورڈ کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

HDFC Bank.Photo:INN
ایچ ڈی ایف سی بینک۔ تصویر:آئی این این

کارپوریٹ گورننس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ  ایچ ڈی ایف سی بینک  کو سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے صرف پرانے تنازعات ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بینک کو اپنی  کارپوریٹ گورننس، داخلی نظام اور بورڈ کی نگرانی  کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ سرمایہ کار اب صرف مالی نتائج ہی نہیں بلکہ ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی ہائی کورٹ سے سلمان خان کو بڑی راحت، فلم ’’کالا ہرن ‘‘کے ٹیزر کو ہٹانے کا حکم


یہ بحث  ایم ایس آر ڈی سی (MSRDC) ڈپازٹ کیس  کے بعد شدت اختیار کر گئی، جس میں بینک کے بورڈ نے داخلی تحقیقات مکمل کیں۔ تحقیقات کے بعد  سی ای او ششی دھر جگدیشن  سمیت بعض سینئر عہدیداروں پر مالی جرمانہ عائد کیا گیا اور انہیں تنبیہ بھی کی گئی۔ تاہم بورڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیقات میں ذاتی مالی فائدہ، بدنیتی یا قواعد کی خلاف ورزی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اسی بنیاد پر بورڈ نے ششی دھر جگدیشن کی دوبارہ تقرری کی بھی سفارش کی، جس پر حتمی فیصلہ    ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) کرے گا۔
انسٹی ٹیوشنل انویسٹر ایڈوائزری سروسیزکے منیجنگ ڈائریکٹر  امیت ٹنڈن  کا کہنا ہے کہ صرف ایک معاملہ نمٹا دینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا بینک نے حالیہ گورننس تنازعات سے سبق سیکھا ہے، کیا بورڈ کی نگرانی پہلے سے زیادہ مؤثر ہوئی ہے اور کیا داخلی کنٹرولز کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اچھی گورننس میں صرف نتائج نہیں بلکہ ان تک پہنچنے کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
امیت ٹنڈن نے کہا کہ اس معاملے کو سابق آزاد ڈائریکٹر  اتنو چکرورتی  کے استعفے اور دیگر حالیہ گورننس تنازعات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اب بینک کی سب سے بڑی ذمہ داری سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس کا گورننس نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور شفاف ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:زین الدین زیدان فرانس کی قومی فٹبال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقرر


دوسری جانب اشون پاریکھ ایڈوائزری سروسیز  کے منیجنگ پارٹنراشون پاریکھ  نے کہا کہ بورڈ کی آزادانہ تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ معاملہ قواعد کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ گورننس اور کاروباری طریقۂ کار سے متعلق تھا، اسی لیے سی ای او کی دوبارہ تقرری کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سی ای او، سی ایف او اور دیگر سینئر افسران پر جرمانہ عائد کرنا  خود ایک اہم قدم ہے، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ ادارے میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK