Inquilab Logo Happiest Places to Work

چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی ’قیمت چکانے‘کی دھمکی

Updated: June 02, 2026, 12:04 PM IST | Agency | Tehran

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نےکہا کہ یہ حملےجنگ بندی پرامریکہ کی عدم تعمیل کا واضح ثبوت ہیں،متنبہ کیا کہ وقت آنے پرحساب برابر کیاجائے گا ۔

Chief Negotiator Baqer Qalibaf.Photo:INN
چیف مذاکرات کار باقرقالیباف- تصویر:آئی این این
ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس عمل کی مذمت کی جسے انہوں نے جنگ بندی پر امریکہ کی عدم تعمیل قرار دیا ہے۔ قالیباف نے آج پیر کے روز ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا سمندری ناکہ بندی اور نام نہاد صہیونی نظام کی طرف سے لبنان میں جنگی جرائم میں اضافہ،جنگ بندی پر امریکہ کی عدم تعمیل کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر راستے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جب ادائیگی کا وقت آئے گا تو حساب چکایا جائے گا۔ آخر میں صورت حال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
 
 
 محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نہ صرف ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے سے بھی نہیں روک رہا۔ دوسری جانب  ایران نے امریکہ کو جاری سفارتی عمل میں تعطل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے متضاد موقف مذاکراتی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل میں تاخیر کی بنیادی وجہ امریکہ پر اعتماد کا فقدان، اس کے متضاد بیانات اور لبنان پر اسرائیلی حملے ہیں۔ 
 
 
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا آغاز ہی شدید شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کی فضا میں ہوا تھا جبکہ موجودہ حالات میں دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلۂ جاری ہے۔ بقائی کے مطابق دوسرا فریق مسلسل اپنے موقف میں تبدیلی کرتا رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً نئی یا ایک دوسرے سے متضاد شرائط پیش کرتا ہے جس کے باعث مذاکرات طویل ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام بار بار اپنے موقف تبدیل کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ جلد از جلد ایک واضح اور حتمی فیصلہ کریں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK