الیکشن کمیشن کے اقدام پر تنقیدیں، سماجوادی پارٹی نے یاددہانی کرائی کہ انتخابات سے قبل وہیں کےافسر بدلے جاتے ہیں جہاں بی جےپی اقتدار میں نہ ہو
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 11:39 PM IST | Kolkata
الیکشن کمیشن کے اقدام پر تنقیدیں، سماجوادی پارٹی نے یاددہانی کرائی کہ انتخابات سے قبل وہیں کےافسر بدلے جاتے ہیں جہاں بی جےپی اقتدار میں نہ ہو
اتوار کی شام ۴؍ بجے مغربی بنگال سمیت ۵؍ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کیلئے تاریخوں کا اعلان کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے راتوں رات ریاست کے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی اور کولکاتا کے کمشنر کے تبادلہ کا حکم جاری کردیا اور ہدایت دی کہ مذکورہ افسران کولکاتا کے انتخابی عمل سے دور رہیں گے۔ واضح رہے کہ انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کے ذریعہ افسران کے تبادلے عام بات ہے مگر اس طرح بڑے پیمانے پر اور ریاست کے سب سے سینئر افسران کے تبادلے کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی نیت پر شبہ کااظہار کیا جارہاہے اور اپوزیشن نے اس بی جےپی کی ایما پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کی چیف سیکریٹری نندنی چکرورتی کو ہٹا کر دشنیت نریالہ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے ۔اسی طرح جگدیش پرساد مینا کو ہٹاکر الیکشن کمیشن نے سنگ مترا گھوش کو مغربی بنگال کاہوم سیکریٹری بنادیاہے۔ ڈی جی پی پیوش پانڈے اور کولکاتا کے پولیس کمشنر سپرتیم سرکار کو ہٹا کر سدھ ناتھ گپتا اور اجے کمار نند کو ڈی جی پی اور پولیس کمشنر کے عہدے پر فائز کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذریعہ کئے گئے ان تبادلوں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس کو تعینات کرتے ہیں، وہ ہمارے لئے ہی کام کریں گے، وہ سب بنگال کیلئے کام کریں گے۔‘‘کولکاتا میںعوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے الیکشن کمیشن کا نام لئے بغیر کہا کہ ’’سب کچھ بدل دیں مگرآپ ریاست میںحکومت نہیں بدل سکیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے راتوں رات کئے گئے تبادلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’انہوں نے آدھی رات کوریاستی حکومت سے مشورہ کئے بغیر چیف سیکریٹری نندنی چکروورتی، جو ایک بنگالی خاتون ہیں کو ہٹا دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے خواتین مخالف ہیں۔‘‘ وزیراعلیٰ نے بنگالی وقار کا معاملہ بھی بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ ’’ہمارے ہوم سیکریٹری اب غیر بنگالی ہیں۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انہیں بنگال کے باصلاحیت افسران سے کتنی نفرت ہے۔‘‘