Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: فلسطینی باشندے نئی علاقائی جنگ کے متعلق خدشات میں مبتلا، مزید تنازعات میں گِھر جانے سے خائف

Updated: March 07, 2026, 7:32 PM IST | Gaza

محصور فلسطینی علاقے کے بہت سے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی جنگ کی بھاری قیمت چکا چکے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ غزہ کو کسی اور تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا اور خطہ میں جاری حالیہ جنگ کے دوران وہ پہلی صرف تماشائی بن کر رہ سکیں گے۔

Devastation in Gaza after Israeli Attacks. Photo: X
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد ہر طرف بربادی کا سماں ہے۔ تصویر: ایکس

غزہ کے باشندے، گزشتہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیل اور ایران کے درمیان علاقائی تنازع کو دور سے دیکھ رہے ہیں، لیکن بہت سے فلسطینیوں کو ڈر ہے کہ محصور علاقہ ایک بار پھر ایک اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جارحانہ اسرائیلی جنگی کارروائیوں نے غزہ کے بیشتر حصے کو تباہ کردیا ہے اور اس جنگ میں اب تک ۷۲ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس قدر جانی نقصان کو برداشت کرنے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں اور تشدد کے ایک اور دور سے بچنے کے لئے بے چین ہیں۔ حالانکہ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے علاقے میں جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اسرائیل کے ذریعے اس کی خلاف ورزیوں کے چلتے فلسطینی باشندوں کی روزمرہ کی زندگی غیر یقینی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی قانون سازوں کا انتباہ، اسرائیل ایران جنگ کو بطور ڈھال استعمال کرسکتا ہے

بہت سے فلسطینی ابھی تک حالیہ جنگ کے مصائب کو بھول نہیں پائے ہیں۔ نصیرات پناہ گزین کیمپ میں رہنے والی ۳۵ سالہ اولیٰ محمد کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ کیا غزہ دوبارہ میدانِ جنگ بن جائے گا۔ گزشتہ جنگوں کے دوران تین بار اپنا گھر کھونے کے بعد، انہیں ڈر ہے کہ ایک نیا تنازع پھر وہی تباہی لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”غزہ میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے اپنے اردگرد کے دیگر تنازعات کی پرواہ نہیں ہے۔ اگر یہاں دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی، تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ بہت سے فلسطینی خاندان اب بھی جنگ کے اثرات سے نبرد آزما ہیں۔ کئی خاندانوں کے رشتہ دار لاپتہ ہیں اور انہیں خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امدادی تنظیموں کی اسرائیلی عدالت سے فلسطین میں کام پر پابندی ختم کرنے کی اپیل

سیاسی تجزیہ کار محمد یاسین نے بتایا کہ اگر غزہ براہِ راست علاقائی تنازعات میں شامل نہ ہو، تب بھی یہ لامحالہ طور پر اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔ ان کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت اکثر غزہ اور مغربی کنارے دونوں جگہوں پر فلسطینیوں کی صورتحال کا تعین کرتی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے پہلے ہی اس علاقے پر عملی نتائج مرتب ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے حال ہی میں کئی دنوں کے لئے غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جس کے بعد انسانی امداد، خوراک اور تجارتی سامان کی آمد معطل ہوگئی تھی۔ اب کچھ گزرگاہیں دوبارہ کھل گئی ہیں، لیکن صرف محدود امدادی کھیپوں کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان مشکلات کے باوجود، یاسین نے کہا کہ دیگر محاذوں پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی توجہ نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پر دباؤ کو کچھ حد تک کم کیا ہے اور فضائی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی کم رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

اس کے باوجود، غزہ کے باشندے خائف ہیں۔ خان یونس سے تعلق رکھنے والے ۴۵ سالہ محمد مقداد نے کہا کہ جب علاقائی حملوں کی خبریں پہلی بار سامنے آئیں تو بہت سے خاندانوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”جیسے ہی ہمیں ایران پر حملوں کی خبر موصول ہوئی، لوگوں نے کھانا اور ضروری اشیاء خریدنا شروع کر دیں۔ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں جنگ اور قحط کے دن واپس نہ آ جائیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں: ٹرمپ

محصور فلسطینی علاقے کے بہت سے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی جنگ کی بھاری قیمت چکا چکے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ غزہ کو کسی اور تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا اور خطہ میں جاری حالیہ جنگ کے دوران وہ پہلی صرف تماشائی بن کر رہ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK