Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول تک پکی سڑک کیلئےبچے ضلع کلکٹریٹ تک پہنچے

Updated: August 13, 2026, 7:37 AM IST | Hamirpur Marg

’’کسان چھاتر اور بیمار پریشان، چھتر پور سے ہمیر پور مارگ کا کرو نرمان‘‘کانعرہ لگایا، ضلع کلکٹر سے ملاقات کی کوشش کی

Students marching in the tricolor towards the district collector`s office.
طلبہ ضلع کلکٹر کے آفس کی طرف ترنگا مارچ کرتے ہوئے

اتر پردیش میں فتح پور میں اسکول میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے احتجاج کے بعد اب ہمیر پور میں جین  الفا نے  اپنی اسکول تک پکی سڑک کیلئے ترنگا لے کر ضلع کلکٹریٹ تک مارچ کیا۔  بچوں نے ہاتھوں میں ترنگا اور مطالبات پر مبنی پوسٹر اٹھا کر ’ترنگا یاترا‘ نکالی اور اپنے والدین اور گاؤں کے بزرگوں کے ساتھ تقریباً ۵؍ کلومیٹر پیدل چل کر ضلع کلکٹریٹ پہنچے۔ 
 بچوں نے کلکٹریٹ کے مرکزی دروازے پر بیٹھ کر’’کسان چھاتر اور بیمار پریشان، چھتر پور سے ہمیر پور مارگ کا کرو رنمان‘‘ کے نعرے لگائے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد سے ان کے گاؤں تک مناسب سڑک نہیں بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے خصوصاً بارش کے موسم میں اسکول جانے والے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
 بارش کے دوران گاؤں کو اسکول اور بیرونی علاقوں سے جوڑنے والا کچا راستہ پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ بچوں کے مطابق انہیں کیچڑ اور گندے پانی سے گزر کر اسکول پہنچنا پڑتا ہے، جس سے ان کی اسکول یونیفارم خراب ہوجاتی ہے اور جوتے بھی کیچڑ میں برباد ہوجاتے ہیں۔
 ایک طالب علم نے کہا کہ اس مسئلے کو کئی مرتبہ حکام کے سامنے اٹھایا گیا، لیکن ہر بار انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ایک یا دو ہفتوں میں سڑک کا کام شروع ہوجائے گا، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ بچوں کے ہاتھوں میں موجود پوسٹروں پر بھی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ، کسانوں اور مریضوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK