Inquilab Logo Happiest Places to Work

گڈ بائی انڈیا، سی یو اِن چائنا! اروناچل کے نوجوان کا ویڈیو وائرل، چینی قبضے کے دعوے پر ہنگامہ

Updated: August 10, 2026, 8:08 PM IST | Itanagar

اروناچل پردیش کے سوشل میڈیا کریئیٹر تبا ناگو کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ طنزیہ مگر تشویش بھرے انداز میں کہتے ہیں: ’’گڈ بائی انڈیا، بہت جلد آپ سب مجھے چین میں دیکھیں گے۔‘‘ ناگو نے دعویٰ کیا کہ چین مبینہ طور پر اروناچل پردیش میں ’’آہستہ آہستہ داخل ہو رہا ہے‘‘ اور زمین پر قبضہ کر رہا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اروناچل پردیش سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے ہندوستان اور چین کے درمیان حساس سرحدی تنازع کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ریاست کے سوشل میڈیا کریئیٹر تبا ناگو نے ایک ویڈیو میں طنزیہ انداز میں ہندوستان کو الوداع کہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں شاید اروناچل پردیش کے لوگوں کو چین میں دیکھا جائے گا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین میں تشویش پھیل گئی اور سرحدی علاقوں میں مبینہ چینی پیش قدمی کے دعووں پر سیاسی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ ناگو نے ویڈیو میں کہا کہ ’’گڈ بائی انڈیا، بہت جلد آپ سب لوگ مجھے چین میں دیکھیں گے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے یہ بات صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھی بلکہ کہا کہ شاید پورا اروناچل چین میں نظر آئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’’چین یہاں اروناچل میں آہستہ آہستہ داخل ہو رہا ہے اور یہاں کی زمین پر قبضہ کر رہا ہے۔‘‘

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Youth Observer News (@youthobserver.news)

ویڈیو میں نوجوان نے حکومت پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اروناچل کے لوگ مسلسل اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے بقول اس معاملے پر مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی تو چین کے اروناچل پر قبضہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور اسی خدشے کے باعث وہ ’’پیشگی الوداع‘‘ کہہ رہے ہیں۔ تاہم تبا ناگو کے چینی قبضے سے متعلق دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے حالیہ دنوں میں ریاست میں چینی فوج کی کسی تازہ دراندازی یا نئے قبضے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج علاقے میں مؤثر گشت کر رہی ہے اور ریاست کی سرحدی سلامتی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے تیار: رپورٹ

پیما کھانڈو کا دوٹوک جواب: تازہ چینی دراندازی نہیں
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اروناچل کے بعض سرحدی علاقوں میں چینی سرگرمیوں سے متعلق سوشل میڈیا دعوے گردش کر رہے تھے۔ اس سے قبل ٹکسنگ سیکٹر میں چینی فوج کی مبینہ سرگرمیوں اور دراندازی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جنہیں اروناچل پردیش حکومت نے ’’سوشل میڈیا افواہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔ ریاستی حکام نے کہا تھا کہ پی ایل اے کی جانب سے ٹکسنگ میں دراندازی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس طرح موجودہ صورتحال میں دو الگ چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ضروری ہے: ایک طرف تبا ناگو کی وائرل ویڈیو میں کیے گئے دعوے ہیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری سطح پر تازہ چینی دراندازی سے انکار کیا گیا ہے۔ اس لیے ویڈیو میں بیان کیے گئے خدشات کو تصدیق شدہ چینی قبضے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے ۶؍ شرائط پیش کیں

پون کھیڑا نے حکومت کو گھیر لیا
ویڈیو نے سیاسی رنگ اس وقت اختیار کیا جب کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے اسے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر تنقید کی۔ کھیڑا نے کہا کہ ایک نوجوان کا اس حد تک مایوس ہو کر ہندوستان کو الوداع کہنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوان کی مایوسی اروناچل پردیش میں چین کی مبینہ پیش قدمی کے بارے میں حکومت کے ’’انکار اور بے عملی‘‘ کا نتیجہ ہے۔ کھیڑا نے حکومت سے سوال کیا کہ آیا وہ چینی دراندازی کے دعوے کی تردید کرے گی، معاملے کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی کوشش کرے گی یا ویڈیو بنانے والے نوجوان کو ہی نشانہ بنایا جائے گا۔ کھیڑا نے مزید کہا کہ ملک کو ایک ’’سنگین خطرے‘‘ کا سامنا ہے اور ان کے مطابق حکومت اس معاملے کو تسلیم نہیں کرنا چاہتی۔ یہ کانگریس کا سیاسی مؤقف ہے، جس کی آزادانہ تصدیق ویڈیو سے نہیں ہوتی۔ 

چین کے ساتھ پرانا سرحدی تنازع
اروناچل پردیش ہندوستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع کا ایک اہم مرکز ہے۔ چین پورے اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے اور اسے ’’زنگنان‘‘ قرار دیتا ہے، جبکہ ہندوستان واضح طور پر اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا ’’اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ‘‘ ہے اور چین کی جانب سے مقامات کے نام تبدیل کرنے سے زمینی حقیقت نہیں بدل سکتی۔ حالیہ دنوں میں سرحدی حساسیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب ہندوستان نے اروناچل پردیش کے ۲۷؍ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کے سرکاری ناموں کو اپنے نقشوں میں معیاری شکل دی۔ یہ اقدام چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے مقامات کے نام تبدیل کرنے کی کوششوں کے جواب میں دیکھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پرشانت کشور اور سونیترا پوار کی ملاقات پرسپریہ سُلےکا ردعمل

سرحدی دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے پر بھی زور
حکومت ہند نے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں آبادی برقرار رکھنے اور بنیادی سہولیات بہتر بنانے کے لیے وائبرنٹ ولیجز پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پہلے مرحلے کے تحت اروناچل پردیش میں ۲۲۰۸۲؍ منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت ۷۴ء۲۷۴۹؍ کروڑ روپے ہے۔ ان میں سڑکوں، رابطے، روزگار اور بنیادی شہری سہولیات سے متعلق کام شامل ہیں۔ ایک اور سرکاری جواب کے مطابق وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت اروناچل پردیش میں ۱۲۵؍ غیر منسلک دیہاتوں کو جوڑنے کے لیے ۱۰۵؍ سڑکوں اور ۲۷؍ لانگ اسپین پلوں کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت ۸۲ء۲۳۶۱؍ کروڑ روپے بتائی گئی ہے اور سڑکوں کی مجموعی لمبائی تقریباً ۱۰۲۲؍ کلومیٹر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ: اسکولی طالبات کی خستہ حال سڑک کی رپورٹنگ کا ویڈیو وائرل

اس پس منظر میں تبا ناگو کا ویڈیو کو محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں، کیونکہ یہ سرحدی علاقوں کے رہنے والوں میں موجود خدشات اور مرکز سے مزید توجہ کی توقع کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے دعووں، سیاسی بیانات اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ سرحدی واقعات کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’چین تیزی سے اروناچل پردیش کے دیہاتوں پر قبضہ کر رہا ہے‘‘۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ اروناچل پردیش ہندوستان اور چین کے درمیان ایک حساس اور متنازع سرحدی خطہ ہے، چین وہاں علاقائی دعویٰ برقرار رکھتا ہے، اور سرحدی بنیادی ڈھانچے و نقشہ جاتی دعووں پر دونوں ملکوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ تبا ناگو کے وائرل ویڈیو نے اسی پرانے تنازع کو عوامی تشویش کے ایک نئے انداز میں سامنے لا دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK