معذوربچوں کو جدید طرزتربیت سے کامیاب انسان بنایاجاسکتا ہے

Updated: December 13, 2021, 11:53 AM IST | Agency | Mumbra

امید فاؤنڈیشن کا یقین ،خصوصی توجہ اور تربیت سے معذور بچے بھی مین اسٹریم میں کامیاب ہو سکتےہیں: پرویز فرید

Children studying in a school in Membra..Picture:INN
ممبرا میں واقع اسکول میں بچےتعلیم حاصل کرتے ہوئے۔۔ تصویر: آئی این این

معذور بچوں پر اگر توجہ دی جائے ، انہیں  جدید طرزِ تربیت دی جائے تووہ نہ صرف عام بچوں کی طرح مین اسٹیرم میں کامیاب ہو سکتے ہیںبلکہ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس(آئی اے ایس)  امتحان میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ یقین ممبرا میں جاری معذوروں کےلئے اسکول چلانے والے امید فاؤنڈیشن کے نگراں پرویز فرید نے ظاہر کیا۔یہاں معذور بچوں کو بالکل مفت تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے دستاویز بھی بنائے جاتے ہیں۔ دسمبر میں معذوروں کا ہفتہ منانے کے دوران انہوں نے  ایک پریس کانفرنس منعقد کی تھی  جس میں انہوںنے معذور بچوںکیلئے جدید ٹیکنالوجی کے تعلق سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تفصیلی معلومات دی۔
 پرویز فرید نے بتایاکہ تقریباً ۱۲؍ سال سے جاری امید فاؤنڈیشن کے معذوروںکے اسکول میں  فی الحال ۳۰۰؍سے زائد طلبہ تربیت، علاج اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اسکول ابوالکلام آزاد اسٹیڈیم کے سامنے واقع تھانے میونسپل کارپوریشن( ٹی ایم سی) کی جانب  سے دی گئی جگہ پر جاری ہے۔  اس اسکول میں کمپیوٹر ، اسپیشل پرنٹر، اسپیچ تھیراپی اور دیگر جدید آلات کی مدد سے ذہنی ، جسمانی ، نا بینا اور سماعت سے محروم ۱۸؍ سال تک کے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اور ان میں سننے ، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی اسکول سے تعلیم حاصل کرکے متعددطلبہ پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کر رہے ہیں۔ چند طلبہ نے  ڈی ایڈ میں داخلہ لیا ہے۔ اس اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہے تاکہ طلبہ خود مختار بن سکیں اور انہیں پاٹ پینٹنگ، موتی اور دیگر آلات کی مدد سے وال  پیس ، جھالر، مہندی ڈیزان اور اسی طرح چھوٹے موٹے  ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں ۔معذور بچوں کو جدید آلات سے پڑھایا جاتا ہے جن کے ایک سیشن کی فیس پرائیویٹ اداروں میں ہزاروں روپے  لی جاتی ہے لیکن یہاں یہ بالکل مفت ہوتی ہے۔‘‘ امید فاؤنڈیشن کے نگراں نے بتایا کہ ’’سماج میں ۷؍ تا ۸؍ فیصد معذور بچے ہوتے ہیں۔ اسی اعتبار سے معذوروں کے اسکولوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔  جو سرکاری اسکول  بند ہو رہے ہیں اگروہاں بھی معذوروں کے اسکول شروع کئے جائیں تو مزید معذوروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر جاسکتا ہے۔‘‘  انہوںنے کہا کہ ’’اسکول میں تقریباً ۳۰۰؍ سے زیادہ طلبہ  رجسٹرڈ  ہیں اور معذور بچوں کیلئے ہر ۸؍ طالب علم /طالبات پر ایک ٹیچر کا تقرر کرنا ہوتا ہے اور اب حکومت نے معذوروں کی ۲۱؍ کیٹیگری بنا دی ہے اس  اعتبار سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اساتذہ کی شدید ضرورت ہے۔ان اسپیشل اساتذہ کی تنخواہ بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ہر ماہ اساتذہ کی تنخواہ دینے کی ایک فکر رہتی ہے ۔  معذور بچے معصوم ہوتےہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ گناہ کیا ہوتا ہے۔ اگر عوام ، غیر سرکاری تنظیم ، شہری انتظامیہ اور حکومت کا تعاون اور توجہ ان بچوں پر رہے تو یہ بچے بھی مین اسٹیرم کامیاب ہو سکتے ہیں اور ہم ان بچو ں کی زندگی میں خوشیاں بھر سکتے ہیں۔
امید فاؤنڈیشن کا ہیلپ لائن نمبر
 معذور بچوںکی تربیت سے متعلق کسی طرح کی رہنمائی کیلئے امید فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن  نمبر ۸۸۷۹۵۳۵۴۲۵؍ پر صبح ۱۰؍ تا شام ۶؍ بجے رابطہ قائم کیاجاسکتا ہے۔

mumbra Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK