• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملئے ۲؍حافظ بھائیوں سےجو ممبرا میں تراویح پڑھا رہے ہیں

Updated: February 24, 2026, 12:58 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

علمی و دینی خانوادے کے دو چشم وچراغ محمد علقمہ اور ان کے چچا زاد بھائی محمد فاتح ،نورانی مسجد میں تراویح میں کلام پاک سنا رہے ہیں۔

Hafiz Alqamah And Muhammad Fateh Are Seen Reciting The Holy Quran.Photo: INN
حافظ علقمہ اور محمد فاتح قرآن مجید پڑھنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
یہ دو حفاظ ہیں جو رشتہ میں چچا زاد بھائی ہیں۔ علمی و دینی خانوادے سے تعلق رکھنے والے حافظ شیخ محمد علقمہ بن مولانا نظر الباری ندوی (۱۸)ان کےچچازاد بھائی محمد فاتح بن قاری سیف الباری کے ساتھ ممبرا کی نورانی مسجد میں تراویح پڑھا رہے ہیں۔ علقمہ نورانی مسجد (ممبرا) کے امام وخطیب نظر الباری ندوی کے بیٹے ہیں اورتراویح پڑھانے کے ساتھ ساتھ گریجویشن کی تعلیم بھی حاصل کررہے  ہیں جبکہ فاتح گیارہویں میں زیر تعلیم ہیں۔
علقمہ بتاتے ہیںکہ ان کے دادا دار العلوم دیوبند کے فارغین میں سے تھے جو ایک جید حافظ قرآن اور مشہور عالم دین تھے، مہاراشٹر کے خطہ کوکن میں ان کی بڑی خدمات رہی ہیں، اسی طرح میرے والد اور ۴؍چچا حافظ وقاری ہیں اور دار العلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے خانوادے میں ۲۸؍ تا ۳۰؍ حفاظ ہیں۔ علقمہ کی والدہ اس وقت انتقال کر گئیںجب ان کی عمر محض پانچ سال تھی۔ والد اور رشتہ داروں نے ان کی سرپرستی کی۔
بہار کے مردم خیز ضلع دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے علقمہ نے حفظ اپنے والد مولانا نظر الباری ندوی کے پاس نورانی مسجد ہی میںکیاجبکہ میٹرک اور انٹر بہار اسکول ایجوکیشن بورڈ سے کیا۔  ابتدائی عربی والد صاحب سے پڑھا اور خصوصی اول معہد الایمان للتعلیم والتربیہ ممبرا شاخ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے کیا جس کے ذمہ دار مولانا شہاب الدین ندوی صاحب ہیں۔
محمد علقمہ پانچ سال سے نورانی مسجد ممبرا میں دوسری تراویح پڑھاتے ہیں جو رات ساڑھے ۱۰؍بجے شروع ہوتی ہے۔۱۰؍ رکعات وہ اور  ۱۰؍ رکعات محمد فاتح پڑھاتے ہیں۔ان کا بیس رمضان المبارک کو تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے کا ارادہ ہے۔
فاتح نےجامعہ صفۃ الصحابہ حیدرآباد اور مدرسہ انوار الہدی گوونڈی سےحفظ مکمل کیا ہے  اور گزشتہ سال دسویں کاامتحان پاس کیا ہے اور فی الحال گیارہویں (کامرس) میںزیر تعلیم ہیں اور قرآن مجید کا دور کر رہے ہیں ۔ علقمہ نے یومیہ ڈیڑھ پارہ کی ترتیب سے تنہا تراویح بھی پڑھائی ہے ۔
 
 
قرآن یاد رکھنے کے معمول کےتعلق سے دونوں بتاتے ہیں کہ روزانہ تھوڑا تھوڑا پڑھنے کا معمول ہے اور رجب شعبان میں ایک دو دور کرتے ہیں۔علقمہ کے بقول ’’عام دنوں میں کم از کم آدھا پارہ دور، اور ہفتہ وار مکمل جائزہ کا اہتمام کرتا ہوں لیکن رمضان میں تراویح کے حساب سے روزانہ کا حصہ اچھی طرح دہراتا ہوں، دن میں دو تین بار مشق کرتا ہوں اور مشکل مقامات الگ نشان زد کر کے بار بار پڑھتا ہوں۔ تراویح میں بغیر رکاوٹ اور غلطی کئے کلام الہٰی پڑھ سکوں اس کیلئے جس رکوع/ صفحات کی تلاوت کرنی ہے، کم از کم ۳؍ تا ۵؍بار روانی سے پڑھتا ہوں۔ مشکل آیات، متشابہات اور مقاماتِ وقف پر خصوصی توجہ دیتا ہوں۔ نماز کی طرح کھڑے ہو کربھی مشق کرتا ہوں۔ نیند، خوراک اور ذہنی یکسوئی کا خیال رکھتا ہوں۔فاتح بتاتے ہیںکہ جب قرآن کریم تراویح میں مکمل ہو جاتا ہے تو شکر، خوشی اور روحانی سکون سے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ اللہ نے خدمتِ قرآن کی توفیق دی۔
 
 
حفظ کرنے کے رجحان اور ترغیب سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’’قرآن کی فضیلت والی احادیث اور حفاظ کے واقعات سننے سےحفظ کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔نیک ماحول، باعمل اساتذہ اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی سے حفظ مکمل کر سکا ہوں۔تراویح بہتر انداز میں پڑھانے کیلئے نئے حفاظ کو مشورہ دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ’’تراویح پڑھانے کے دوران جلدی نہ کریں، معتدل رفتار اور واضح ادائیگی کے ساتھ پڑھائیں،تجوید کی رعایت کریں،سامعین کی طاقت کا بھی خیال رکھیں ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK