Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبرا: سوشل میڈیا انفلوئنسرکے گھر کے باہر فائرنگ

Updated: March 08, 2026, 1:32 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ملزم نے شیل ڈائیگھر میں بھی فائرنگ کی، ۲؍ نوجوان زخمی، واردات کے ایک گھنٹے کے اندر ملزم گرفتار۔

Nadeem Moinuddin Khan alias Baba Khan. Photo: INN
ندیم معین الدین خان عرف بابا خان۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کو علی الصباح ممبرا کے کوسہ میں ایک سنسنی خیز واردات ہوئی جس میں ایک شخص نے الماس کالونی میں رہائش پذیر تاجر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے گھر کے باہر کھڑی ان کی کار پر فائرنگ کی اور پھر وہ شیل ڈائیگھر میں ایک عمارت میں چھپ گیا جہاں عوام کی مدد سے پولیس نے اسے گرفتار کرلیا لیکن اس نے یہاں بھی ۵؍ رائونڈ فائرنگ کی جس میں ۲؍ نوجوان زخمی ہوگئے۔
یہ واردات صبح تقریباً ۵؍ بجے پیش آئی جب ۲؍ نوجوان پیشہ سے کانٹریکٹر ندیم معین الدین خان عرف بابا خان کی رہائش گاہ کے باہر آئے جن میں سے ایک نے ایک رائونڈ ہوا میں فائرنگ کرنےکے بعد ۲؍ گولیاں بابا خان کی کار پر چلائیں جس سے ان کی کار کو معمولی نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ مہایوتی حکومت کا بجٹ قرض لے کر پٹاخے پھوڑنے جیسا ہے‘‘

یہاں واردات انجام دینے کے بعد ملزم شیل ڈائیگھر میں واقع اچار گلی میں واقع ایک عمارت میں گھس گیا جس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ ملزم کے پاس پستول موجود تھی جس کی وجہ سے لوگ اسے پکڑ نہیں سکے۔ پولیس کے آنے تک مقامی افراد نے ملزم کو عمارت سے باہر نکلنے نہیں دیا البتہ اس نے یہاں بھی فائرنگ کردی جس میں ۲؍ نوجوان زخمی ہوگئے۔ان دونوں کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔پولیس نے عوام کی مدد سے ملزم، شہباد عرف شمبھو منا عرف شمشاد قریشی (۲۸) کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے پاس سے پستول اور میگزین برآمد ہوئی ہے۔
ممبرا پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر انل شندے نے اس سلسلے میں کہا کہ ملزم دہلی کا رہنے والا ہے اور اس کے خلاف چند سنگین کیس پہلے سے درج ہیں۔ فائرنگ کے وقت اس کے ساتھ موجود نوجوان کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ بے قصور ہے ،شمشاد نے اسے زبردستی اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں شدید ٹریفک جام کے مسائل پر ہنگامی میٹنگ

فائرنگ کی وجہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملزم زیادہ کچھ نہیں بتارہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ۸؍ سے ۱۰؍ روز قبل بابا خان نے انہیں غصہ میں گھور کر دیکھا تھا جس کی وجہ سے اس نے یہ واردات انجام دی ہے۔ تاہم پولیس کو اس کی بات پر یقین نہیں ہے اور وہ اس سلسلے میں مزید تفتیش کررہے ہیں۔
سینئر انسپکٹر کے مطابق عوام کی بھیڑ کی وجہ سے وہاں پہنچنے والے پولیس افسران و اہلکاروں نے اس پر جوابی گولی نہیں چلائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK