Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۱۸): ’’ممبرا گداگروں کی آماجگاہ بن گیا، آپ بات تک نہیں کر سکتے‘‘

Updated: March 09, 2026, 3:06 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اسلا م گداگری کی حمایت نہیں کرتا بلکہ منع کرتاہے۔ پیشہ وارانہ گداگروں کو بھیک دینا ان کی ہمت افزائی کرنا ہے ۔ انہیں رقم دینے سے مستحقین کی حق تلفی ہونے کااندیشہ ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اس مرتبہ مہاراشٹر اسمبلی کا بجٹ اجلاس رمضان میں منعقد ہو رہا ہےاور یہ ۲۳؍فروری سے شروع ہو کر ۲۵ ؍مارچ تک جاری رہے گا، اسی توقع ہے۔ اسمبلی اجلاس کی رپورٹنگ کی وجہ سے اہل خانہ کو عید کی خریداری کیلئے لے جانے کا وقت نہیں مل رہا تھا۔ اسی دوران خوش قسمتی سے ۲؍مارچ ۲۰۲۶ءکو ہولی کی چھٹی ملی جس میں دفتر کا ادارتی محکمہ مکمل بند تھا اور اگلے روز کا اخبار بھی نہیں تھا، اس پر سونے پہ سہاگا یہ ہوا کہ اس روز بجٹ اجلاس کی بھی تعطیل تھی۔ لہٰذا یہ اچھا موقع تھا اسی لئے یہ طے ہوا کہ اسی روز ناخدا مارکیٹ جاکر بچوں کیلئے عید کی خریداری کر لی جائے ۔

یہ بھی پڑھئے: دُنیا کی بے ثباتی،فتح ِ روم کی خوشخبری اور حضرت لقمان کی نصیحتیں سماعت کیجئے

مارکیٹ جانے کیلئے گھر کےقریب پہاڑی پر واقع مدرسہ و مسجد ابن مسعود میں سوا بجے والی جماعت کے ساتھ ظہر ادا کی اور بیوی بچوں کے ساتھ خریداری کیلئے روانہ ہو گیا۔ ریلوے اسٹیشن جیسی ہی آٹو میٹک ٹکٹ وینڈنگ مشین پہنچ کرٹکٹ نکالنے لگا ،ایک بچی بھیک مانگنے ہوئے وہاں وارد ہوئی۔ مَیں نے اس سے معذرت کی اور ٹکٹ نکالنے لگا۔ اسی دوران مجھے ہمارے ایک سینئر ساتھی عرفان بھائی عثمانی کی بات یاد آگئی ۔ وہ اکثر ممبرا میں بھیکاریوں کی بھرمار کی اکثر کی شکایت کر تے رہتے ہیں۔ رمضان میں گزشتہ ملاقات پر انہوںنے مجھ سے کہا تھا کہ ممبر ا میں اتنے بھکاری ہوگئے ہیںکہ آپ کھڑے ہو کر کسی نے ۲؍منٹ بات تک نہیں کر سکتے ،اسٹال/ہوٹل کے قریب کھڑے ہو کر سکون سے چائے بھی پینا بھی محال ہے۔ جیسے ہی آپ کھڑے ہوں گے کوئی نہ کوئی بچہ لی ہوئی خاتون یا بچی آپ سے بھیک مانگنے ضرور پہنچ جائے گی۔

انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ بھیک مانگنا تو جرم ہے نا؟تو پھر اتنے بھکاری ممبرا کوسہ میں کیسے جمع ہو گئے؟ اور اس جر م کو پروان چڑھانے میں کس کا ہاتھ ہے؟

ان کی یہ شکایت جائز بھی ہے کیونکہ رات میں ممبرا ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایم گیٹ کے نیچے اور فٹپاتھوں پر بڑی تعداد میں بھکاری فیملی سمیت سوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بڑی راتیں شب برأت اور شب معراج میں تو ان کی بھرمار ہو جاتی ہے۔فجر بعد اور عید کی شب میں جب آپ سڑک کے کنارے سے گزریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گاؤ ں کا گاؤں ممبرا میں آکر بس گیا ہےاور بھیک مانگنے میں لگا ہوا ہے۔ایک ایک شہری کے پیچھے ۲۔۳؍ بچے بھیک مانگتے ہوئے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف

عرفان بھائی نےیاد دلایا کہ کچھ برس قبل ریل مسافروں کی تنظیم کی ایک رضا کار نے ممبرا ریلوے اسٹیشن پر ایک اسٹنگ آپریشن کیا تھاکہ جس میں یہ جانچ کی گئی تھی کہ جو بھیکار پٹی وغیرہ باندھ کر اور اپنے زخمی ہونے اور بیماری کا عذر پیش کر کے مسافروں سے بھیک مانگتے ہیں کیا وہ واقعی زخمی ہیں؟ اس اسٹنگ آپریشن میں فٹ اوور بریج پر پیر میں پٹی باندھ کر بھیک مانگنے والے ایک شخص کی پٹی کھلوائی گئی تھی جس کے بعد پتہ چلا تھا کہ اسے کوئی زخم نہیں تھا،وہ مسافروں کو بے وقوف بنا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ لہٰذا اس کے بعدسے وہ کچھ روز کے لئے وہاں سے غائب ہو گیا تھا اور ریلوے اسٹیشن سے بھکاری بھی کم ہو گئے تھے۔

راقم نے یہی سوال جب ممبرا میں ایک پولیس اہلکار سے کیاگیا تھا تو انہوںنے جواب دیا تھا کہ ہم تو بھکاریوں کو سختی سے بھگاتے ہیں لیکن شہریوں ہی اپنی رحم دلی کا مظاہرہ کر کے ہمیں منع کرتے ہیںکہ جانے دو صاحب! غریب ہے،تو ہم کیا کرے؟ پولیس اہلکار کاجواز قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۷): سوچ بدلو، حالت خود بخود بدل جائے گی

مقامی نورانی مسجد (ممبرا) میں امام صاحب حافظ و عالم محمد ندوی روزانہ فجر کی جماعت کے بعد قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہیں، اس کے بعد اگر کوئی کوئی مسئلہ پوچھے تو اس کا حل بھی بتاتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے بھی ان سے پوچھاکہ رمضان المبارک میں مسلمان اس نیت سے زیادہ عطیہ اور بڑھ چڑھ کر بھیک دیتے ہیں کہ رمضان میں عام دنوں سے زیادہ ثواب ملے گا یہ کہاں تک درست ہے؟ انہوںنے بتایا کہ اسلا م گداگری کی حمایت نہیں کرتا بلکہ منع کرتاہے۔ بلکہ پیشہ ورانہ گدا گروں کو بھیک نہیں دینا چاہئے گویا اسے بھیک دے کر ہم اس کی ہمت افزائی کر رہے ہیں اور اس سے مستحقین کی حق تلفی کا بھی امکا ن ہے ۔ جہاں تک کسی بھکاری کو دھتکارنے کا معاملہ ہے ، انہیں دھتکارنا نہیںچاہئے بلکہ ان سے معذرت کر لینی چاہئے یا کچھ پیسہ دے کر اسے آگے بڑھا دینا چاہئے۔ہاں سماج میں جو واقعی مستحق افراد ہیں اور عزت نفس کے سبب مانگنے سے کتراتے ہیں، انہیں عطیہ ، فطرہ اور زکوٰۃ ادا کرنا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK