چین نے این ویڈیا کے ایچ ۲۰۰؍ مصنوعی ذہانت چِپ کی پہلی کھیپ کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیجنگ اپنی اے آئی ضروریات اور ملکی ترقی کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 6:23 PM IST | Beijing
چین نے این ویڈیا کے ایچ ۲۰۰؍ مصنوعی ذہانت چِپ کی پہلی کھیپ کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیجنگ اپنی اے آئی ضروریات اور ملکی ترقی کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔
چین نے این ویڈیا کے ایچ ۲۰۰؍ مصنوعی ذہانت چِپ کی پہلی کھیپ کی درآمد کی منظوری دے دی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیجنگ اپنی اے آئی ضروریات اور ملکی ترقی کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو ذرائع نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا ہے کہ بائٹ ڈانس، علی بابا اور ٹینسینٹ کو مجموعی طور پر چار لاکھ سے زائد ایچ۲۰۰؍ چِپس خریدنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دیگر ادارے بھی اگلی منظوریوں کے لیے قطار میں شامل ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ منظوری اس دوران دی گئی جب این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ اس ہفتے چین کے دورے پر تھے۔ چین کی وزارت برائے صنعت و تجارت اور این ویڈیا دونوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ بائٹ ڈانس، علی بابا اور ٹینسینٹ نے بھی اس حوالے سے کوئی اعلان جاری نہیں کیا۔ این ویڈیا کی دوسری سب سے طاقتور اے آئی چِپ ایچ ۲۰۰؍ کا معاملہ، امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی کا موجب بنا تھا۔
چینی کمپنیوں کی جانب سے بلند سطح کی مانگ اور برآمدات کے لیے امریکی منظوری کے باوجود، درآمدات کی اجازت دینے میں بیجنگ کی ہچکچاہٹ سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔ اس ماہ کے اوائل میں امریکہ نے باضابطہ طور پر این ویڈیا کو ایچ۲۰۰؍ چین کو بیچنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ تاہم، حتمی فیصلہ چینی حکام کے ہاتھ میں تھا۔
حالیہ ہفتوں میں یہ واضح نہیں تھا کہ بیجنگ منظوری دے گا یا نہیں کیونکہ حکومت جدید اے آئی چِپس کی بڑھتی ہوئی مقامی طلب کو پورا کرنے اور ملکی سیمی کنڈکٹر صنعت کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتی ہے۔
چینی کسٹم حکام نے ایجنٹس کو کہا کہ ایچ ۲۰۰؍ چِپس کو چین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے دو ملین سے زائد ایچ ۲۰۰؍ چِپس کے آرڈر دے رکھے ہیں، جو این ویڈیا کے دستیاب اسٹاک سے کہیں زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یوجی سی گائیڈ لائنس کیخلاف اترپردیش میں اعلیٰ ذاتوں کے احتجاج میں شدت
یہ اب بھی غیر یقینی ہے کہ آئندہ کھیپوں میں مزید کتنی کمپنیوں کو منظوری ملے گی یا بیجنگ اہلیت کا تعین کرنے کے لیے کون سے معیار استعمال کر رہا ہے۔ ہوانگ گزشتہ جمعہ کو این ویڈیا کے چین کے ملازمین کے ساتھ روایتی سالانہ تقریبات کے لیے شنگھائی پہنچے اور اس کے بعد انہوں نے بیجنگ اور دیگر شہروں کا سفر کیا۔ ایچ۲۰۰؍ کی منظوریوں سے اشارہ ملتا ہے کہ بیجنگ بڑی چینی انٹرنیٹ کمپنیوں کی ضروریات کو ترجیح دے رہا ہے، جو اے آئی خدمات کو تیار کرنے اور اوپن اے آئی سمیت امریکی حریفوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹر بنانے پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ اگرچہ چینی کمپنیاں، جیسے ہواوی، اب ایسی مصنوعات تیار کرتی ہیں جو این ویڈیا کی چِپ کارکردگی کے قریب ہے تا ہم پھر بھی ایچ ۲۰۰؍ کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عادل حسین کوفلم ’’لکڑبگھا۲ ‘‘میں ملند سومن کی جگہ شامل کیا گیا
ایچ ۲۰۰؍ این ویڈیا کی ایچ ۲۰؍ چِپ کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا بہتر کارکردگی مہیا کرتی ہے۔ اس کے باوجود، بیجنگ نے غیر ملکی سیمی کنڈکٹرز کی درآمد کی منظوری کے بدلے کمپنیوں سے مقامی چِپس کے ایک مخصوص کوٹے کو خریدنے کا تقاضا کرنے پر بات چیت کی ہے۔