چین کا طالبان پر سے عالمی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

Updated: October 28, 2021, 10:50 AM IST | Beijing

قطر کے دارالحکومت میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی طالبان وفد اور امیر قطر سے ملاقات ۔ بیان جاری کرکے امریکہ سمیت مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کی نئی حکومت پر عائد پابندیاں ہٹائیں اور ان کی منجمد رقوم ریلیز کریں تاکہ جنگ سے تباہ حال ملک کی معاشی اور انسانی مدد کی جا سکے

Chinese Foreign Minister Wang Yi with Emir of Qatar Sheikh Tamim bin Hamad Al Tahani in Doha (Photo: Agency)
چینی وزیر خارجہ وانگ یی دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حماد التہانی کے ساتھ ( تصویر: ایجنسی)

چین نے ایک بار پھر عالمی برادری سے  مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان پر عائد  پابندیاں ختم کرے تاکہ جنگ کے سبب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے اس ملک کی مدد کی جا سکے اور یہاں سے معاشی اور انسانی بحرانی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ منگل کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں طالبان کے وفد کے ساتھ ۲؍ روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک بیان جاری کرکے یہ  بات کہی۔
 طالبان کے ذرائع نے اطلاع دی کہ چینی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات  میں  افغانستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم  ملا عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امیراللہ خان متقی موجود تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں چینی وزیر خارجہ نے طالبان وفد پر اس بات کیلئے زور ڈالا کہ وہ افغانستان میں خواتین کے حقوق  کا تحفظ کریں نیز تمام طبقات کو حکومت میں شامل کریں نیز دیگر وعدوں کو پورا کریں۔ اس اجلاس کے بعد چینی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان  وسیع النظری کا  مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے تمام گروہوں کو کو متحد رکھیں گے تاکہ ملک میں متحدہ طور پر  تعمیر نو کا کام پر امن طریقے سے کیا جا سکے۔ 
  ساتھ ہی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’طالبان خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو موثر طریقے سے یقینی بنائیں گے۔  اور ایک جدید ملک تعمیر کریں گے جو عوام کی امنگوں کا آئینہ دار ہوگا، نیز بدلتے وقت کے عین مطابق ہوگا۔‘‘ اسی بیان میں آگے عالمی برادری کو مخاطب کرکے مطالبہ کیا گیا ہے کہ  وہ افغانستان کی حمایت کرے    تاکہ `انسانی ہمدردی کی نوعیت کے بحران، معاشی افراتفری، دہشت گردی کے خطرات اور حکمرانی کو لاحق مشکلات پر قابو پانے میں ان کی مدد کی جائے۔ ساتھ ہی ملک کو ترقی کی درست راہ پر گامزن کرنے میں مدد دی جا سکے۔وینگ نے مزید کہا کہ `چین مغربی ممالک، جن کی قیادت امریکہ کرتا ہے سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ طالبان پر عائد پابندیاں اٹھالیں اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ دانشمندی اور عملی اقدامات کا انداز اپنانے میں مدد دینے کیلئے  طالبان سے بات چیت کریں۔
  واضح رہے کہ پاکستان کے بعد چین واحد وہ ملک ہے جو طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔ جبکہ امریکہ نے افغانستان سے اپنے فوجی انخلا کے مکمل ہوتے ہی افغان حکومت کے ورلڈبینک میں جمع ۹؍ ارب ڈالر کے اثاثے کو منجمد کر دیاتھا۔ چین بار بار اس اثاثے کو ریلیز کرنے کی بات کہہ رہا ہے۔  دوحہ میں وانگ یی نے طالبان کے وفد سے ملاقات کے بعد قطر  کے امیر شیخ  تمیم بن حماد التہانی سے بھی ملاقات کی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ یاد رہے کہ قطر ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کروانے نیز دونوں کا معاہدہ کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK