چین کی ہٹ دھرمی، کشیدگی کم کر نے کی کوششوں کے بیچ لداخ میں مزید ۲۴؍ ہزارجوان تعینات کردیئے

Updated: July 02, 2020, 8:44 AM IST | Agency | New Delhi

سرحد پر حالات کو مزید بگاڑتے ہوئے پیپلس لبریشن آرمی نے ایل اے سی کے اطراف ٹینک اور جنگجوطیارے تک لاکھڑےکئے ہیں، صورتحال پر ہندوستان کی گہری نظر

Protest against China - Pic : INN
چین کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : آئی این این

مشرقی لداخ میں بات چیت کے ذریعہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے بیچ ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بدھ کو اطلاع  دی ہے کہ چین نے دھاندلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  یہاں ایل اے سی کے آس پاس   متنازع علاقے میں مزید ۲؍ فوجی ڈویزن تعینات کردیئے ہیں۔ خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کی رپورٹ  کے مطابق ایسے وقت میں جبکہ جنوبی زنجیانگ کے فوجی سربراہ میجر جنرل لیو لِن نے  اپنے ہندوستانی ہم منصب جنرل ہریندر سنگھ سے  بات  چیت کے دوران گلوان سے فوجوں کو پیچھے لینے پر آمادگی کااظہار کیا ہے، چین کی یہ حرکت معاملات کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔
 ہندوستان ایل اے سی پر بدلتی ہوئی   صورتحال  پرگہرائی سے نگاہ رکھے ہوئے۔  انڈوایشین نیوز سروس  کےمطابق اسے خفیہ ایجنسیوں میں موجود ذرائع  نے بتایا ہے کہ ’’مشرقی لداخ خطے میں چین  نے مجموعی طور پر مزید ۲۴؍ ہزار فوجی تعینات کردیئے ہیں۔‘‘ یہاں چین کے پہلے ہی ۱۲؍ ہزار جوان تعینات تھے۔  ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ چینی فوجیں اس علاقے میں جنگجو طیارے اور ٹینک تک لے آئے ہیں۔  

 پنگانگ جیل کے کنارے  ہندوستانی زمین پر چین کے قبضے کا دعویٰ

چین نے  پنگانگ سو جھیل کے شمالی کنارے پر اپنے پرچم نصب کرتے ہوئے بورڈ لگادیا ہے کہ یہ چین کی زمین ہے۔  یہ اطلاع ایک معاصر انگریزی اخبار نے دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پنگانگ سو کے شمالی کنارے  پر کم وبیش ۸؍ کلومیٹر زمین پر جو  ہندوستان کی سرزمین ہے، قبضہ کرنے کے بعد  چین نے اب اس علاقے میں باقاعدہ بورڈ لگادیئے ہیں کہ یہ زمین چین کی ہے۔  ۸۰؍ میٹر لمبا یہ بورڈ  اس طرح لگایاگیا ہے کہ وہ نہ صرف فضاسے نظر آجائے بلکہ سیٹیلائٹ سے کھینچی جانے والی تصویروں میں دکھائی دے گا۔ 
 نئی دہلی میں ٹائمز آف انڈیا  نے ایک حکومتی اہلکار سے گفتگو کی جس نے بتایا کہ ’’اس سے بہت واضح ہے کہ پیپلس لبریشن آرمی ( پی ایل اے، چینی فوج) کا اس علاقے سے جلد ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم نے بھی مئی سے ہی کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے  اضافی فوج اور آئی ٹی بی پی (انڈوتبتن بارڈر پولیس) کے جوانوں کو متحرک کیا ہے۔  ہم چاہتے ہیں کہ جو صورتحال پہلے تھی وہ  بحال ہو اور پی ایل اے اپنی اصل جگہ پر واپس چلی جائے۔‘‘  بتایا جارہاہے کہ فنگر ۴؍ سے فنگر ۸؍ تک کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد پی ایل اے کے جوانوں نے یہاں درجنوں خیمے نصب کرلئے ہیں۔  

china ladakh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK