• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین نے دنیا کے مدار میں ۱۰؍سیٹیلائٹ بھیج دیئے،۸؍ اے آئی سیٹیلائٹ ہیں

Updated: October 15, 2026, 8:05 PM IST | Beijing

چین نے ژوکوئے-۲؍ ای وائی ۴؍کیریئر راکٹ کے ذریعے کامیابی کے ساتھ ۱۰؍ سیٹیلائٹ مدار میں بھیج دیئے ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ خلاء میں بھیجے گئے ۱۰؍ سیٹیلائٹس میں سے ۸؍ کو مصنوعی ذہانت اے آئی کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

China.Photo:INN
چین کا سیٹیلائٹ۔ تصویر:آئی این این

 چین نے ژوکوئے-۲؍ ای وائی ۴؍کیریئر راکٹ کے ذریعے کامیابی کے ساتھ ۱۰؍ سیٹیلائٹ مدار میں بھیج دیئے ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے  شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ خلاء میں بھیجے گئے ۱۰؍ سیٹیلائٹس میں سے ۸؍ کو مصنوعی ذہانت اے آئی  کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ شنہوا کے مطابق  راکٹ چین کے مقامی وقت کے مطابق شام ۷؍بج کر ۴۰؍ منٹ پر چین کے شمال مغربی علاقے میں واقع ڈونگ فینگ کمرشیل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے روانہ ہوا اور تمام۱۰؍ سیٹیلائٹس کو ان کے مقررہ مداروں میں پہنچا دیا۔

یہ بھی پڑھئے:’’کافی وِد کرن‘‘ سیزن ۹: سلمان خان اور کرشمہ کپور نے ۹۰ءکی دہائی کی یاد تازہ کردی

ان میں سے آٹھ سیٹیلائٹ چینی تجارتی خلائی کمپنی اے ڈی اے اسپیس  کے  اسٹار کمپیوٹ  منصوبے کے دوسرے گروپ کا حصہ ہیں۔ ان سیٹیلائٹس کو ڈان ڈَسک طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے اوقات سے مطابقت رکھنے والےمداروں میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سیٹیلائٹ، اعلیٰ کارکردگی کے حامل کمپیوٹنگ نظام، لیزر مواصلاتی آلات اور کم روشنی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کیمروں سے لیس ہیں۔
یہ سیٹیلائٹ، ۱۰؍ ہزار واٹ کی صلاحیت رکھنے والے مائع کولنگ نظام، توسیع پذیر ٹھنڈک کے ڈھانچوں، خلا میں قائم لیزر مواصلاتی نیٹ ورکس اور براہِ راست مدار میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ماڈلز کی تربیت جیسی ٹیکنالوجیوں کا تجربہ کریں گے۔ اے ڈی اے اسپیس نے کہا ہے کہ اس مشن سے خلا ئی کمپیوٹنگ  شعبے میں تکنیکی ترقی اور اس کے تجارتی استعمال کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:پابندی کی دھمکی کے باوجود عزیز الشاعر کا ایک اور فلسطینی بچی کو خراجِ عقیدت

کمپنی کا ہدف مدار میں ۲۸۰۰؍ کمپیوٹنگ سیٹیلائٹس پر مشتمل مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔۱۲؍ سیٹیلائٹس پر مشتمل پہلا گروپ مئی  ۲۰۲۵ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اے ڈی اے اسپیس نے جنوری میں جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے علی بابا کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل  قوین ۳؍  (Qwen3) کو مداری کمپیوٹنگ نیٹ ورک میں ضم کر دیا ہے، جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے متعلق کارروائیاں براہِ راست خلا میں انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔کمپنی کا منصوبہ ہے کہ ۲۰۳۰ء تک ایک ہزار سیٹیلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کیا جائے، جبکہ  ۲۰۳۵ءتک اس سے بھی زیادہ وسیع سیٹیلائٹ نیٹ ورک مکمل کر لیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK