• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ہند نژاد کانگریس وومن پرمیلا جیاپال کی ایس آئی آر پر ہندوستان پر تنقید

Updated: October 15, 2026, 7:15 PM IST | Washington

امریکہ کی ہندنژاد کانگریس وومن پرمیلا جیاپال نےایس آئی آر پر ہندوستان پر تنقید کی، انہوں نے الزام لگایا کہ۱۳؍ کروڑ افراد کو انتخابی فہرستوں سے صاف کیا جا رہا ہے،جبکہ راہل گاندھی نے طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس زیادتیوں کا الزام لگایا۔

Indian-American Congresswoman Pramila Jayapal . Photo: X
ہند نژاد امریکی نمائندہ پرمیلا جیا پال۔ تصویر: ایکس

ہند نژاد امریکی نمائندہ پرمیلا جیا پال نے بدھ۱۴؍ اکتوبر کو ہندوستانی حکومت کی انتخابی فہرست نظر ثانی، یعنی ایس آئی آر مشق پر تنقید کی، انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ۱۳؍ کروڑ افراد کو انتخابی فہرست سے غائب کر سکتی ہے۔ انہوں نے غیر جمہوری کوششوں کے خلاف عدم تشدد کے احتجاج کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔جیاپال نے X پر ایک بیان میں کہا، ’’مجھے ہندوستانی حکومت کی جانب سے۱۳؍ کروڑ افراد کوانتخابی فہرستوںسے غائب کرنے کے اقدامات پر گہری تشویش ہے۔‘‘ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکہ میں ووٹنگ کے حقوق کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے کیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر مقدمہ چلاکر اسے سزادینا چاہیے: نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے

مزید برآں واشنگٹن کی نمائندہ نے کہا، ’’ہر جگہ جمہوریتوں کا تحفظ ضروری کام ہے، اور ہندوستانی عوام، امریکی عوام کی طرح، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے مستحق ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدم تشدد کے احتجاج میں حصہ لینے والے ہندوستانیوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کایہ تبصرہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف مظاہروں اور چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبات کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
علاوہ ازیں دہلی میں، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پولیس پر انتخابی فہرست نظر ثانی مشق کے خلاف مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ مظاہرین پر زیادتی کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر زور دیا کہ وہ مظاہرین کی آواز کو نہ دبائیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے اجتماع کو ایک اجتماعی اظہار کے طور پر بیان کیا جو مذہب، ذات اور جنس سے بالاتر ہے۔ گاندھی نے کہا، ’’جیسا کہ میں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا، یہ ہندوستان ہے۔ امت شاہ جی، اسے اچھی طرح دیکھیں۔ یہاں کوئی ہندو نہیں، کوئی مسلمان نہیں، کسی خاص ذات کا کوئی نہیں؛ کوئی عورت نہیں، کوئی مرد نہیں۔ ایک آواز ہے، ایک احتجاج ہے۔ یہ ہندوستان کی آواز ہے، اور آپ اس آواز کے خلاف کھڑے ہیں ، وزیر اعظم اس آواز کے خلاف کھڑے ہیں۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں: اس آواز کے خلاف مت کھڑے ہوں۔ کوئی بھی اس آواز کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی: شیخ حسینہ

بعد ازاں انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مبینہ پولیس بدسلوکی کو ریکارڈ کریں اور ثبوت کانگریس کے ساتھ شیئر کریں۔ گاندھی نے کہا کہ پارٹی ذمہ دار پائے جانے والوں سے جوابدہی کے لیے یہ  مواد استعمال کرے گی۔دراصل ان کایہ تبصرہ طلبہ کارکنوں کے الزامات کے بعد سامنے آئے کہ پولیس گاڑیوں اور تھانوں میں ان پر حملہ کیا گیا تھا۔انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا،’’ میں نے تمام طلبہ سے کہا ہے کہ وہ ویڈیو ریکارڈ رکھیں اور وہ ثبوت ہمیں بھیجیں۔ جب یہ سارا معاملہ ختم ہو جائے گا، تو ہم اس تمام ثبوت کو استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر اس شخص کو سزا دی جائے جسے سزا دی جانی چاہیے، وزیر اعظم نریندر مودی، گیانیش کمار، امت شاہ، اور یہاں تک کہ وہ کانسٹیبل بھی جو ہمارے بچوں کے خلاف ہاتھ اٹھا رہا ہے۔‘‘
مزید برآں ایک پریس کانفرنس کے دوران، گاندھی نے کیرالا سے تعلق رکھنے والی دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اتھیرا کے کیس کو بھی اجاگر کیا، الزام لگایا کہ حراست کے دوران مارے جانے کے بعد وہ ایک کان سے سماعت سے محروم ہو گئی تھی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK