Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کیخلاف جنگ سے امریکی معیشت بھی متاثر

Updated: March 14, 2026, 12:00 PM IST | Washington

اگر جنگ طویل ہوئی تو امریکہ کو مہنگائی بڑھنے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی سست روی اور کاروبار میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

US President Donald Trump`s actions have pushed the US towards an economic slowdown. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقدامات نے امریکہ کو معاشی سست روی کی طرف ڈھکیل دیا ہے۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی نے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکہ کو مہنگائی، معاشی سست روی اور کاروبار میں بڑے پیمانے پر مسلسل کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے جنگ پہلے ہی گھنٹے میں جیت لی تھی تاہم صورتحال تاحال غیر یقینی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً ۲۰؍ فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لئے بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمت ۲۰۰؍ ڈالرس فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں امریکہ میں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ جنگ امریکی معیشت کیلئے بہت بڑا بحران لائی ہے۔ 
ایندھن کے معاملات کے تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق بدھ تک امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت۳ء۵۹؍ ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی تھی جو فروری کے مقابلے میں ۶۵؍ سینٹ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو ہر ہفتے پیٹرول کی قیمت میں ۲۵؍ سے ۴۰؍ سینٹ کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر تیل کی قیمت طویل عرصے تک۱۴۰؍ ڈالرز فی بیرل کے قریب رہتی ہے تو امریکی معیشت کساد بازاری (معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اور مسلسل کمی) کی طرف جا سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کاروباریوں کو سال میں ۲؍ہزار کروڑ روپے کے مالی فوائد فراہم کیے: امیزون بزنس

شکاگو یونیورسٹی کے توانائی پالیسی ماہر سیم اوری کے مطابق تاریخ میں جب بھی تیل کی قیمتیں امریکی مجموعی معیشت کے ۴؍ سے ۵؍ فیصد کے برابر ہوئیں تو اس کے بعد معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ `الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث خلیج میں بحری ٹریفک متاثر ہونے سے عالمی بندرگاہوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اگر یہی صورتِ حال ایک ماہ تک جاری رہی تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک سے آنے والی مصنوعات جیسے کھاد، پلاسٹک، ادویات اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے لئے ہیلیم گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس سے مستقبل میں زرعی پیداوار اور گاڑیوں سمیت دیگر صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے امریکی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو گا اور حکومتی قرض بھی بڑھے گا۔ عرب میڈیا نے براؤن یونیورسٹی کے تحقیقی منصوبے’’ کاسٹس آف وار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے ہی عراق اور افغانستان کی جنگوں پر لیے گئے قرضوں کے سود میں کم از کم ایک کھرب ڈالرز ادا کر چکا ہے اور اب نئے قرض کا متحمل نہیں ہے۔ اگر خلیج میں جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف توانائی کی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور امریکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ اسی وجہ سے یہ مطالبہ بار بار کیا جارہا ہے کہ جنگ فوری طور پر ختم ہو جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو امریکہ اور اس پر منحصر دیگرمعیشتوں کا دیوالہ نکل سکتا ہے۔ امریکی معیشت اپنے ساتھ دنیا کی کئی چھوٹی چھوٹی معیشتوں کو بھی سنبھالتی ہے۔ اسی لئےجنگ جلد از جلد بند ہونے کا مطالبہ مسلسل کیا جارہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK