Updated: July 02, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
چینی بیٹری مینجمنٹ ایپ BAT-BMS کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جن میں بعض افراد بلوٹوتھ کے ذریعے ای رکشوں اور الیکٹرک اسکوٹروں کو دور سے بند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان ویڈیوز نے سڑکوں پر حفاظتی خدشات، سائبر سیکوریٹی اور ای وہیکلز کے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز کی کمزور سیکوریٹی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نئی دہلی میں ایک چینی اسمارٹ فون ایپ BAT-BMS سوشل میڈیا پر ایک نئے وائرل رجحان کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بعض صارفین مبینہ طور پر بلوٹوتھ کے ذریعے مطابقت رکھنے والے ای رکشوں اور الیکٹرک اسکوٹروں کی بیٹری مینجمنٹ سسٹم (BMS) سے جڑ کر انہیں دور سے بند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انسٹاگرام، یوٹیوب، ریڈٹ اور ایکس پر ایسے متعدد ویڈیوز گردش کر رہے ہیں، جن میں یہ افراد ای رکشا کے قریب جا کر ایپ کھولتے، بیٹری سے کنیکٹ ہوتے اور ’’ڈسچارج سوئچ‘‘ بند کرتے نظر آتے ہیں، جس کے بعد گاڑی رک جاتی ہے اور ڈرائیور حیران رہ جاتا ہے۔
بعض وائرل ویڈیوز میں ’’تیرا کنٹرول‘‘ اور ’’انتقام کا وقت‘‘ جیسے جملے استعمال کیے گئے ہیں۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ رجحان غیر منظم ای رکشا ٹریفک اور بعض ڈرائیوروں کے طرزِ ڈرائیونگ پر عوامی ناراضی کا اظہار ہے، جبکہ متعدد دیگر صارفین نے اسے خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے ای رکشا ڈرائیوروں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔ کئی ویڈیوز میں ڈرائیور پریشان اور بے بس دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض مواد میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ ڈرائیور اپنی گاڑی دوبارہ چلانے کے لیے دوسروں کو رقم دینے پر مجبور ہوئے۔ کئی تخلیق کاروں نے اس رجحان کو محض مذاق کے بجائے محنت کش طبقے کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں۔
خیال رہے کہ BAT-BMS دراصل چین کی کمپنی Shenzhen Grenergy Technology کا تیار کردہ ایک جائز بیٹری مینجمنٹ ایپ ہے، جسے بلوٹوتھ سے منسلک لیتھیم بیٹریوں کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے بنایا گیا ہے۔ ایپ کے ذریعے بیٹری کا وولٹیج، درجہ حرارت، کرنٹ، چارجنگ اور دیگر معلومات دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ مطابقت رکھنے والی بیٹریوں میں چارجنگ اور ڈسچارج جیسے افعال بھی کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، ہندوستان میں استعمال ہونے والے بعض کم قیمت ای رکشوں اور الیکٹرک اسکوٹروں میں ایسے چینی ساختہ بیٹری مینجمنٹ سسٹمز نصب ہیں، جن میں بلوٹوتھ سیکوریٹی انتہائی محدود یا بعض اوقات بالکل موجود نہیں ہوتی۔ ایسے سسٹمز میں اگر مناسب پاس ورڈ یا تصدیق فعال نہ ہو تو قریب موجود کوئی بھی شخص بلوٹوتھ کے ذریعے بیٹری سے کنیکٹ ہو سکتا ہے اور پاور آؤٹ پٹ بند کر سکتا ہے، جس سے گاڑی اچانک رُک سکتی ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ تمام ای رکشوں میں موجود نہیں، بلکہ صرف ان گاڑیوں تک محدود ہے جن میں مخصوص مطابقت رکھنے والا بلوٹوتھ بی ایم ایس نصب ہو۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ایپ نہیں بلکہ بعض بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں موجود کمزور حفاظتی انتظامات ہیں۔ ان کے مطابق بہتر تصدیقی نظام، مضبوط پاس ورڈ، انکرپشن اور محفوظ بلوٹوتھ کنفیگریشن کے ذریعے اس قسم کے غیر مجاز رسائی کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایپ اس وقت گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے، جبکہ متعدد رپورٹس کے مطابق اسے ایپل کے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ وائرل ویڈیوز میں دکھائے گئے تمام واقعات حقیقی ہیں یا نہیں، کیونکہ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس رجحان پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور کئی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر چلتی ہوئی گاڑیوں کو اس طریقے سے بند کیا جائے تو اس سے ڈرائیوروں، مسافروں اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم، خبر لکھے جانے تک مرکزی یا ریاستی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان یا کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔