Updated: July 02, 2026, 10:06 PM IST
| Riyadh
مصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی نے بدھ کو باضابطہ طور پر عرب لیگ کے نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھال لیے۔ وہ احمد ابو الغیط کی جگہ پانچ سالہ مدت کے لیے اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد انہوں نے عرب لیڈروں اور وزرائے خارجہ کو اپنے پہلے سرکاری خطوط ارسال کیے، جن میں مشترکہ عرب تعاون، علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے، اصلاحات اور اقتصادی و سماجی ترقی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
مصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی۔ تصویر: ایکس
مصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی نے بدھ کو قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک باضابطہ تقریب کے دوران تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھال لیے۔ وہ احمد ابو الغیط کی جگہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں، جن کی دوسری مدتِ ملازمت ۳۰؍ جون کو مکمل ہوئی تھی۔ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے ۲۲؍ جون کو اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونے والے اجلاس میں نبیل فہمی کو متفقہ طور پر پانچ سال کے لیے سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد یکم جولائی سے ان کی مدتِ کار کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ عرب لیگ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ذمہ داریوں کی منتقلی کی تقریب میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرلز اور تنظیم کے متعدد اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ تقریب کے بعد نبیل فہمی نے جنرل سیکریٹریٹ کے حکام سے خطے کی تازہ سیاسی صورتحال، تنظیم کی ترجیحات اور آئندہ مرحلے کے ورک فلو سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے ۱۰۰۰؍ دن، فلسطینیوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی
بیان میں کہا گیا کہ نئے سیکریٹری جنرل نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی عرب ممالک کے سربراہان کو اپنے پہلے سرکاری خطوط ارسال کیے، جن میں انہیں دیے گئے اعتماد پر شکریہ ادا کیا گیا۔ انہوں نے عرب وزرائے خارجہ کو بھی خطوط روانہ کیے، جن میں عرب دنیا کو درپیش سیاسی، اقتصادی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے، مشترکہ عرب تعاون کو مضبوط بنانے، اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خیال رہے کہ نبیل فہمی ۱۹۴۵ء میں عرب لیگ کے قیام کے بعد تنظیم کے نویں سیکریٹری جنرل ہیں، جبکہ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے آٹھویں مصری بھی ہیں۔ اس روایت میں صرف ایک بار وقفہ آیا تھا، جب ۱۹۷۹ء میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد عرب لیگ کا صدر دفتر عارضی طور پر تیونس منتقل کر دیا گیا تھا اور تنظیم کی سربراہی ایک تیونسی سفارت کار نے سنبھالی تھی۔ بعد ازاں مصر کی عرب لیگ میں واپسی کے ساتھ ہی صدر دفتر دوبارہ قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز
۷۵؍ سالہ نبیل فہمی کو مشرقِ وسطیٰ کے تجربہ کار سفارت کاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جون ۲۰۱۳ء سے جولائی ۲۰۱۴ء تک مصر کے وزیر خارجہ رہے، جبکہ اس سے قبل ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک امریکہ اور ۱۹۹۷ء سے ۱۹۹۹ء تک جاپان میں مصر کے سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں اسکول آف گلوبل افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے بانی بھی رہے ہیں۔ نبیل فہمی کا تعلق ایک معروف سفارتی خاندان سے ہے۔ ان کے والد اسماعیل فہمی بھی ۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۷ء تک صدر انور سادات کے دور میں مصر کے وزیر خارجہ رہے تھے اور عرب دنیا میں نمایاں سفارتی کردار ادا کیا تھا۔
نئے سیکریٹری جنرل ایسے وقت میں عہدہ سنبھال رہے ہیں جب عرب خطہ غزہ کی صورتحال، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور کئی سفارتی چیلنجوں سے دوچار ہے۔ مبصرین کے مطابق، آئندہ برسوں میں عرب لیگ کے کردار اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں نبیل فہمی کی سفارتی مہارت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔