Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی پارلیمنٹ: لاؤڈ اسپیکر پراذان محدود کرنے کا بل ابتدائی مرحلے میں منظور

Updated: July 02, 2026, 10:05 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک ایسے بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی نشریات کو محدود کرنا ہے۔ بل کے حامی اسے شور سے متعلق ضابطہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اور مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادی اور اسلامی شعائر کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ مجوزہ قانون کو حتمی شکل اختیار کرنے کے لیے اب بھی مزید تین پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی میڈیا کے مطابق کنیسٹ نے ایک ایسے بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس میں مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی نشریات کو محدود کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ روزنامہ اسرائیل ہیوم کے مطابق، بدھ کو منظور ہونے والے اس بل کا مقصد ان اقدامات کو سخت بنانا ہے جنہیں بل کے حامی ’’مساجد کے شور‘‘ سے متعلق قوانین کے نفاذ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ادھر یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق ۱۲۰؍ رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں بل کے حق میں ۵۰؍ جبکہ مخالفت میں ۳۶؍ ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد اسے ابتدائی مرحلے میں منظوری مل گئی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کے ۱۰۰۰؍ دن، فلسطینیوں کا مستقبل اب بھی غیر یقینی

یہ بل قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی جماعت اوتزما یہودیت (Otzma Yehudit) نے پیش کیا، جبکہ اسے دائیں بازو کے اپوزیشن لیڈر اوِگڈور لیبرمین کی جماعت یسرائیل بیتینو (Yisrael Beiteinu) کی بھی حمایت حاصل رہی۔ اسرائیلی قانون کے مطابق، کسی بھی بل کو قانون بننے سے پہلے ابتدائی منظوری کے علاوہ مزید تین ریڈنگز اور حتمی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، اس لیے یہ تجویز ابھی نافذ العمل قانون نہیں بنی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون میں یہ شرط شامل ہے کہ کسی بھی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر یا دیگر صوتی نظام نصب کرنے یا استعمال کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت درکار ہوگی۔
چینل ۱۴؍ کے مطابق، بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی مسجد میں ساؤنڈ سسٹم نصب یا چلایا نہیں جا سکے گا۔ مسلم تنظیموں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان صرف ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ مسلمانوں کو نماز کے اوقات سے آگاہ کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے اس پر پابندی یا سخت پابندیاں اس کے عملی مقصد کو متاثر کریں گی۔ بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد مذہبی آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ رہائشی علاقوں میں شور سے متعلق ضوابط کو نافذ کرنا ہے، خصوصاً صبح سویرے نشر ہونے والی بلند آوازوں کے حوالے سے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان میں بے گھر ہوئے ۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد میں سے۴۰؍فیصد لوٹ آئے: اقوام متحدہ

اس نوعیت کی قانون سازی پہلی مرتبہ زیر غور نہیں آئی۔ ۲۰۱۶ء میں اس وقت کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دور میں بھی اسی نوعیت کا ایک بل پیش کیا گیا تھا، جس کے حامیوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلند آواز میں اذان بعض علاقوں میں باشندوں کے لیے شور کا باعث بنتی ہے۔ تاہم اس وقت یہ تجویز قانون کی شکل اختیار نہ کر سکی تھی کیونکہ ناقدین نے خبردار کیا تھا کہ اگر شور سے متعلق یہی معیار اپنایا گیا تو اس کا اطلاق یہودی مذہبی مواقع پر بجائے جانے والے شبت (Sabbath) کے سائرن پر بھی ہو سکتا ہے، جس کے باعث اس بل کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔
اس مجوزہ قانون کو بعض ناقدین ’’مؤذن بل‘‘ (Muezzin Bill) بھی کہتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق حلقے ماضی میں بھی اس قسم کی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بل کی ابتدائی منظوری کے بعد اسرائیل میں مذہبی آزادی، شور سے متعلق ضوابط اور مختلف مذہبی برادریوں کے حقوق کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اگر یہ بل آئندہ پارلیمانی مراحل سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات اسرائیل کے اندر موجود مساجد اور ان کے طریقۂ کار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK