احتجاج اور حکومت مخالف نعرہ کی پاداش میں ایس ڈی پی آئی لیڈر کو تڑی پار کرنے پربامبے ہائی کورٹ سخت برہم، ممبئی پولیس کو شہری حقوق یاد دلائے
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 8:00 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
احتجاج اور حکومت مخالف نعرہ کی پاداش میں ایس ڈی پی آئی لیڈر کو تڑی پار کرنے پربامبے ہائی کورٹ سخت برہم، ممبئی پولیس کو شہری حقوق یاد دلائے
بامبے ہائی کورٹ نے حکومت مخالف احتجاج کی پاداش میں مقدمہ دائر کرنے اور تڑی پار کرنے کے معاملہ میںسماعت کرتے ہوئے ممبئی پولیس کی سخت سرزنش کی ۔عدالت نے واضح کیا کہ مرکز کی بی جےپی حکومت کے کچھ فیصلوں کے خلاف احتجاج کے طور پر ’مورچہ ‘ نکال لینے کو کسی کو تڑی پار کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ اس سے بنیادی شہری حقوق متاثر ہوتے ہیں، عدالت نے ایس ڈی پی آئی کے جنرل سیکریٹری ۴۹؍ سالہ سعید احمد چودھری کو شہر بدر کرنے کے ممبئی پولیس کے حکم کو کالعدم قرار دیا۔
شہری احتجاج کیوں نہیں کرسکتے: کورٹ کا سوال
’ایس ڈی پی آئی‘ (سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا) کے جنرل سیکریٹری سعید احمد چودھری کو شہر بدر کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار نے پولیس سے سوال کیا کہ ’’شہری احتجاج کیوں نہیں کرسکتے؟‘‘کورٹ نے پوچھا کہ احتجاج کرنے پر مقدمہ دائر کرکے کیا ملک کے شہریوں کو حکومت کا غلام بنایا جارہاہے؟ ہائی کورٹ نے شہر بدری کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے ممبئی پولیس سے دریافت کیا کہ احتجاج میں ’’بی جےپی حکومت مردہ باد‘‘ا ور ’’امیت شاہ مردہ باد‘‘ کے نعرہ لگانے کی پاداش میں کس بنیاد پر شہر بدر کرنے کا حکم جاری کیاگیا؟ عدالت نے ملک کے حالات اور حال ہی میں پیپر لیک کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ شہری احتجاج کیوں نہیں کرسکتے اور نعرہ کیوں نہیں بلند کرسکتے۔
احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے
ایسے ماحول میں جب عدلیہ کے فیصلے بھی اکثر حکومت کی منشاء کی طرف جھکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں جسٹس مادھو جامدار نے جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماعت کے دوران زبانی مشاہدے میں صاف طور پر کہہ دیا کہ ’’یہ سب کیا ہے؟ تمام شہریوں کو حکومت ہند کا غلام بنایا جارہا ہے... وہ احتجاج بھی نہیں کرسکتے؟ اتنے سارے سوالیہ پرچے لیک ہوگئے ہیں۔ اگر وہ احتجاج کریں گے تو تم ان کے خلاف کیس بنا دوگے۔ احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے... عرضی گزار نے محض بی جے پی حکومت مردہ باد اور امیت شاہ مردہ باد جیسے نعرے لگائے ہیں، شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ ایسے نعروں کیلئے شہری بدری کیوں؟‘‘
جسٹس مادھو جامدار نے اپنے تحریری فیصلے میں ان شِق کی وضاحت کی ہے کہ کن حالات میں کسی کو شہر بدر کیا جاسکتا ہے اور صاف طور پر کہا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی کسی کو شہر بدر کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا۔
کورٹ نے واضح کیا کہ تڑی پار کب کیا جاسکتاہے
جج نے کہا ہے کہ اگر کسی سے عوام اور عوامی ملکیت کو خطرہ لاحق ہو یا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تب اسے شہر بدر کیا جاسکتا ہے۔ جج کے مطابق اگرچہ سرکاری وکیل نے عدالت میں جو جواب داخل کیا ہے اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعید چودھری کے عمل سے عوام اور عوامی ملکیت کو خطرہ لاحق ہے لیکن جن ایف آئی آر کی بنیاد پر انہیں شہر بدر کیا گیا ہے ان میں اس طرح کی کوئی بات نظر نہیں آرہی۔ ان میں صرف احتجاج اور نعرہ بازی کی بات دکھائی دے رہی ہے۔
پولیس کو اس کا رول یاد دلایا
اس کے ساتھ ہی کورٹ نے پولیس اہلکاروں کو ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے نہیں، عوام کے خادم ہیں ۔ اس ضمن میں سعید چودھری نے انقلاب کو بتایاکہا کہ ’’عدالت کے اس فیصلے سے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو فائدہ ہوگا اور مجھے خوشی ہے کہ میں اس فیصلے کا ذریعہ میں بنا۔‘‘واضح رہے کہ سعید چمبور کے رہنے والے ہیں اور انہیں ایک سال کیلئے ممبئی، نوی ممبئی اور پنویل کی حدود میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ گزشتہ ۶؍ ماہ سے ممبرا میں رہائش پذیر تھے۔اب عدالت کے فیصلے پر وہ ممبئی آگئے ہیں۔