Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہری حکومت کے غلام نہیں: بامبے ہائی کورٹ، ایس ڈی پی آئی لیڈر کی ضلع بدری پرسوال

Updated: July 03, 2026, 8:33 PM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کے شہری حکومت کے غلام نہیں ہیں، عدالت کا یہ فیصلہ سی اے اے اور گیان واپی کے تعلق سے ایس ڈی پی آئی لیڈر کے مظاہروں پر تھا، عدالت نے مرکزی حکومت کے خلاف مظاہروں پر ضلع بدری کو درست قرار دینے سے انکار کر دیا۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار نے جمعرات کو ممبئی پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک ایس ڈی پی آئی لیڈر کی مرکزی حکومت کے خلاف مظاہروں پر ضلع بدری کو درست قرار دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مخالفت اور تنقید اس طرح کی کارروائی کا جواز نہیں بن سکتی ۔ لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے جنرل سکریٹری سعید احمد عبدالوحید چودھری (۴۹؍) کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس جامدار نے کہا کہ محض حکومتی فیصلوں کی مخالفت اور حکمراں جماعت کے خلاف نعرے بازی کوئی شخص کو علاقہ  بدر کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔ واضح رہے کہ سعید کو پانچ ایف آئی آر کی بنیاد پر ایک سال کے لیے علاقہ بدر کیا گیا تھا، جن میں سے زیادہ تر ان مظاہروں سے متعلق تھیں جو انہوں نے شہریت ترمیمی قانون اور گیانواپی مسجد تنازع جیسے معاملات پر منعقد کیے تھے۔بدری کے حکم کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس جامدار نے زبانی تبصرہ کیا،’’یہ کیا ہے؟ تمام شہریوں کو ہندوستانی حکومت کا غلام بنا دیا جا رہا ہے، وہ احتجاج نہیں کر سکتے، وہ تحریک نہیں چلاسکتے، یہ سب کیا ہے؟‘‘ مزید برآں پیپر لیک کے واقعات پر حالیہ عوامی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے جج نے کہا، ’’اب تو بہت سے پیپر لیک ہو چکے ہیں۔ اگر لوگ احتجاج کریں گے تو آپ ان پر مقدمے درج کرو گے، احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے۔‘‘جسٹس جامدار نے مزید پوچھا کہ درخواست گزار کے نعروں پر ایسی کارروائی کیوں کی گئی،’’ درخواست گزار نے صرف بی جے پی حکومت مرداباد اور امیت شاہ مردابادجیسے نعرے لگائے ہیں۔ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ ایسے نعروں پر بدری کے احکامات کیوں؟‘‘جج نے مزید زور دیا کہ پولیس صرف اس لیے شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی کہ وہ حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ‘‘ بعد ازاں جسٹس جامدار نے زبانی طور پر کہا کہ ،’’پولیس وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کی نوکر نہیں ہے؛ وہ عوامی خدمت گزار ہیں۔ میں آپ کے افسران پر بھاری جرمانہ عائد کروں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: لنچنگ فیصلے کے بعد جج کو دھمکی، ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا

علاوہ ازیں سماعت کے دوران، جج نے مشاہدہ کیا کہ سعید ایس ڈی پی آئی سے تعلق رکھتے ہیں، تو انہوں نے مہاراشٹر میں جاری سیاسی تبدیلیوں پر ہلکا پھلکا تبصرہ بھی کیا۔منتخب نمائندوں کی بار بار سیاسی وفاداریاں بدلنے کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس جامدار نے مزاحیہ انداز میں کہا، ’’پرسوں ایک۱۰؍ سالہ بچہ ایک حادثے میں مارا گیا، اور ریاستی اسمبلی میں کیا بحث ہو رہی تھی؟ کہ ایک چیئرمین کیسے منتخب ہوا اور وہ کیسے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں گیا۔ یہ کیا ہے؟ تم بھی (سعید) اپنی پارٹی بدلو... مہاراشٹر میں گھوڑے کی تجارت جاری ہے۔ تم پر کچھ ایف آئی آر ہیں، پارٹی بدلنے پر غور کرو؛ واشنگ مشین چل رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حراستی موت کیس : ۹؍پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا

تاہم سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’آئین اور جمہوری حقوق کے لیے تاریخی فتح‘‘ قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ عدالت نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پرامن احتجاج اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی آئین کے آرٹیکل۱۹؍ اور۲۱؍ کے تحت محفوظ ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسےتاریخی فیصلہ قرار دیا۔ساتھ ہی اختلاف رائے کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف ہراسانی کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔جسٹس مادھو جمدار کے ریمارکس کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر سراہا گیا، وکلا، صحافیوں اور عوامی شخصیات نے انہیں شہریوں کے آئینی حق اختلاف رائے کا مضبوط دفاع قرار دیا۔ ان میں وکیل پرشانت بھوشن ، اور آشیش گوئل شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK