خلیجی ملک کے پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کے سب سے زیادہ ۱۸۰؍ ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے، ہندوستان ۸۴؍ ویں نمبر پر
EPAPER
Updated: December 09, 2022, 10:57 AM IST | DUBAI
خلیجی ملک کے پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کے سب سے زیادہ ۱۸۰؍ ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے، ہندوستان ۸۴؍ ویں نمبر پر
دنیا میں یورپ کے پاسپورٹ کا دبدبہ ختم ہو گیا ہے۔ اب ایک عرب ملک کا پاسپورٹ سب سے طاقتور ہوگیا ہے۔ یہ ملک متحدہ عرب امارات ہے جس کے پاسپورٹ پر بغیر ویزا کے ۱۸۰؍ ملکوں کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یو اے ای نے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا ہے۔آرٹون کیپٹل کے شائع کردہ پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد پہلی ۱۰؍ پوزیشن پر یورپی ممالک موجود ہیں لیکن امارات کے پاسپورٹ کے ذریعے ان یورپی پاسپورٹ کے مقابلے میں ۷؍ زیادہ ملکوں میں سفر کیا جاسکتا ہے۔ جرمنی، سویڈن، فرانس، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک کے پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کے ۱۷۳؍ ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد بلجیم، ڈنمارک ، ناروے اور پرتگال جیسے ممالک ہیں جن کے پاسپورٹ پر بغیر ویزہ کے ۱۷۲؍ ممالک کا سفر ممکن ہے۔ پھر جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا اور یونان جیسے ممالک کا نمبر آتا ہے جن کے پاسپورٹ پر امارات کے پاسپورٹ کے مقابلے ۹؍ ممالک کم کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ان ممالک کے پاسپورٹ پر ۱۷۱؍ ممالک کا سفر بغیر ویزہ ممکن ہے۔ جاپان کے پاسپورٹ سے ۱۷۱؍ ملکوں میں بغیر ویزا سفر کیا جاسکتا ہے ۔ سنگاپور اور کناڈا جیسے ممالک اس فہرست میں ۵؍ ویں نمبر پر ہیں۔ ان ممالک کے پاسپورٹ ۱۷۰؍ ممالک میں بغیر ویزہ کے قابل قبول ہیں۔ جہاں تک بات ہے ہندوستان کی تو مذکورہ فہرست میں ہندوستانی پاسپورٹ ۸۴؍ ویں پوزیشن پر ہے جس کے ذریعے آپ ۵۷؍ ممالک کا بغیر ویزہ کے سفر کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہندوستان کا نمبر کئی چھوٹے موٹے ممالک کے بھی بہت بعد آتا ہے۔
آرٹون کیپٹل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپ میں تنازع کے پھیلنے اور سرحدی کشیدگی میں اضافے کے باوجود عالمی سطح پر نقل و حمل تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ دنیا اب بھی کوروناکے اثرات کو محسوس کر رہی ہے لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ سفر اتنا آسان نہیں رہا۔ یو اے ای کا پاسپورٹ تمام شعبوں میں ترقی کر رہا ے اور توقع ہے کہ ۲۰۲۳ء میں بھی یہ سفر جاری رہے گا۔ یو اے ای میں اونچی عمارت، شاندار سوئمنگ پول اور سب سے طویل ہوٹل شامل ہے۔ آرٹون نے کہا کہ دنیا بھر کے تقریبا تمام ملکوں کے پاسپورٹ اس سال طاقتور ہوئے ہیں کیونکہ دنیا کے ملک نقل و حرکت کی زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل کرتے ہوئے معاشی فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔