Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاسپورٹ سینیٹائزیشن کیلئے ۸۰۰؍ روپے چارج پر اعتراض

Updated: November 18, 2021, 8:13 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

ملازمت کیلئے سعودی عرب جانے والے افراد پریہ اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔اس کام کے لئے دو کمپنیوں کوذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ایجنٹوں کے مطابق اگرکاغذی کارروائی میںکوئی کمی رہ جاتی ہے تو دوبارہ سینیٹائزکروانا پڑتا ہےاورسارا خرچ ملازمت پرجانے والےافراد کوادا کرنا پڑتا ہے

Passport sanitization.Picture:Inquilab
پاسپورٹ سینیٹائزیشن تصویر انقلاب

کورونا کے دور میںجہاںدو وقت کی روٹی کا حصول سنگین ترین مسئلہ بن گیا تھا اوراب بھی حالات پوری طرح سےمعمول پرنہیں آئے ہیں۔ ان حالات میںسعودی عرب ملازمت کی غرض سے جانے والوں کوجہاں ٹکٹ کے زائدپیسے اداکرنے پڑرہے ہیںوہیں ملازمین کے پاسپورٹ کوسینیٹائز کرنے کی بھی شرط عائد کی گئی ہے ۔ اس کےبغیرپاسپورٹ ویزا لگانے کے لئے قبول نہیںکیا جاتا ہے۔ حیرت انگیزبات یہ ہے کہ اس عمل کے لئے۸۰۰؍ روپے چارج لیا جارہا ہے ۔اس کام کے لئے سعودی قونصلیٹ کی جانب سے چاریاری سیکوریٹی اینڈ سینیٹائزیشن کمپنی اورستیم کمپنی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ایجنسیاں پاسپورٹ سینیٹائز کرنے کےبعد اسے بند لفافے میںبل کے ساتھ ایجنٹ کو دے دیتی ہیں۔ 
یہ ہم پربوجھ ہے
 اس عمل کوکورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی قدم بتایا جارہا ہے تاکہ جراثیم کے لگنے کااندیشہ نہ رہے۔ لیکن ملازمین اسے بوجھ قرار دے رہےہیں۔ اس سلسلے میںنمائندۂ انقلاب نے ایسے دو ملازمین سے بات چیت کی لیکن انہوںنے نام بتانے سے اس لئے گریزکیاکہ کہیںنام ظاہرہوجانے کے بعدان کے سعودی عرب جانے کے لئے کوئی مسئلہ نہ پیدا ہوجائے ۔ ان ملازمین کی شکایت ہے کہ پاسپورٹ سنیٹائزیشن کے لئے یہ رقم بہت زیادہ ہے۔ اس کا نظم خودایجنٹ یا سعودی قونصلیٹ کی جانب سے کیا جانا چاہئے نہ کہ ملازمین پر مزید بوجھ ڈال کرانہیںزیربار کیاجائے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرملازمین سے ہی یہ چارج وصول کیا جانا ہے تو۱۰۰؍ ۵۰؍ روپے  بہت ہیں نہ کہ ۸۰۰؍روپے۔
ایجنٹوں اورایجنسیوںکے اہلکاروںکے جوابات 
 انقلاب نے اس سلسلے میںچند ایجنٹوں سے بات چیت کی تو نام خفیہ رکھنے کی شرط پران ایجنٹوں کا جواب تھا کہ کئی ماہ سے یہ چارج لیا جارہا ہے لیکن ہم سب بھی مجبور ہیں، نہ تواعتراض کرسکتے ہیںاورنہ ہی اس سے انکار کرسکتے ہیںکیونکہ یہ ہماری روزی روٹی کا معاملہ ہے۔  ایجنٹوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ محض ایک دفعہ ہی سینیٹائز نہیںکرنا پڑتا ہے بلکہ اگرکاغذی کارروائی میںکوئی کمی رہ گئی تودوبارہ سینیٹائزکرنا پڑتا ہے اوریہ سارا چارج ملازمت پرجانے والے سے ہی وصول کیا جاتا ہےکیونکہ کوئی ایجنٹ ایک پائی اپنی جیب سے خرچ نہیںکرتا ہے۔
 پاسپورٹ سینیٹائزکرنے والی چاریاری سیکوریٹی سروسیز، سینیٹائزیشن سینٹر(مجگاؤں)، میں ڈیوٹی پر موجود امتیاز عثمان نے بتایا کہ ’’ ان کی کمپنی کوسعودی قونصلیٹ کی جانب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اورمنظور شدہ ایجنٹ رابطہ قائم کرتے ہیں ۔فی پاسپورٹ ۸۰۰؍ روپے چارج لیا جاتا ہے اوراس کا بل بھی دیا جاتا ہے ۔‘‘انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ حالات میںبہتری سے یہ امیدہورہی ہے کہ شاید جلد ہی سینیٹائزیشن کا سلسلہ بند ہوجائے۔‘‘  
 ستیم ٹریڈنگ کمپنی(فورٹ ) میں شاذیہ نام کی خاتون نے بھی کچھ ایسا ہی جواب دیا ۔ان کا کہناتھا کہ ان کی کمپنی کو سعودی قونصلیٹ کی جانب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے ،لیکن کسی کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیںہے بلکہ جو ایجنٹ رابطہ قائم کرتے ہیںان کے پاسپورٹ سینیٹائزکرکے جو ضابطہ مقرر کیا گیا ہے اس کے تحت بل کے ساتھ انہیں دے دیاجاتا ہے۔‘‘

passport Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK