Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا

Updated: June 01, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi

آر پی جی گروپ کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے بیرون ملک بعض ہندوستانیوں کے رویوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان عالمی طاقت بننا چاہتا ہے تو شہری شعور، نظم و ضبط اور دوسروں کے احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے سوئزرلینڈ کے ایک ہوٹل میں ہندوستانی مہمانوں کے لیے مخصوص قواعد دیکھنے اور حالیہ وائرل ویڈیوز، جن میں بیرون ملک عوامی مقامات پر گربا رقص اور شور شرابہ شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہندوستان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

معروف صنعتکار ہرش گوئنکا نے بیرون ملک بعض ہندوستانیوں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانیوں کے ’’شہری شعور‘‘ یا ’’سوک سینس‘‘ کو سنجیدگی سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر بیرون ملک عوامی مقامات اور ریستوراں میں گربا پرفارمنس اور دیگر سرگرمیوں کے ویڈیوز وائرل ہو رہے ہیں۔ گوئنکا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگرچہ ہندوستانی دنیا بھر میں کاروبار، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، لیکن بعض رویے غیر ضروری منفی توجہ بھی حاصل کر رہے ہیں اور ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سوئزرلینڈ کے مشہور ریزورٹ شہر گسٹاڈ میں ایک ہوٹل کے دورے کے دوران انہوں نے ایک ایسا نوٹس دیکھا جو صرف ہندوستانی مہمانوں کے لیے مخصوص تھا۔ ان کے مطابق ہوٹل نے مہمانوں کو ناشتے کے بوفے سے کھانا بعد میں استعمال کے لیے نہ لے جانے، راہداریوں اور بالکونی میں شور نہ مچانے، اور دیگر مہمانوں کے آرام کا خیال رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ گوئنکا نے کہا کہ اس نوٹس نے انہیں حیران کر دیا کیونکہ کسی خاص قومیت کے لیے الگ قواعد مرتب کرنا غیر معمولی بات تھی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ چند افراد کے رویے بعض اوقات پوری برادری کے بارے میں تاثر قائم کر دیتے ہیں۔

انہوں نے حالیہ وائرل ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا جن میں ہندوستانی گروپ بیرون ملک ریستوراں اور عوامی مقامات پر گربا رقص کرتے دکھائی دیے۔ اسی طرح انہوں نے ہوائی اڈوں اور پروازوں کے دوران بلند آواز میں گفتگو یا گھر سے لایا گیا کھانا اجتماعی انداز میں کھانے جیسے واقعات کا ذکر کیا۔ گوئنکا نے سوئزرلینڈ کے شہر داؤس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ایک ہندوستانی تاجر نے ایک کلب میں انتہائی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلائی جس کی آواز دور تک سنائی دے رہی تھی۔ اگرچہ بعض افراد نے اسے ہندوستانی ثقافت کی ’’سافٹ پاور‘‘ قرار دیا، تاہم گوئنکا کے مطابق اس سے مقامی لوگوں اور دیگر مہمانوں کو پریشانی ہوئی۔

<iframe width="436" height="576" src="https://www.youtube.com/embed/jwkStnlUo3U" title="Indian Tourists Dance to ‘Chaiyya Chaiyya’ on Vietnam Railway Tracks" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe>

اپنے پوسٹ میں انہوں نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جاپانی شہریوں کو ان کے نظم و ضبط، صفائی، شائستگی اور عوامی مقامات کے احترام کے لیے یاد رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی عالمی شناخت صرف اقتصادی ترقی یا آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی قائم ہونی چاہیے کہ ہندوستانی دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے رویوں کے ذریعے کیسا تاثر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اگر ہندوستان ایک حقیقی عالمی سپر پاور بننا چاہتا ہے تو دنیا کو ہندوستانیوں کو ان کی بہترین اقدار، دوسروں کے احترام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے لیے یاد رکھنا چاہیے۔‘‘

گوئنکا کے بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بہت سے صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہری شعور، ٹریفک قوانین کی پابندی، صفائی اور عوامی آداب کی تعلیم بچپن سے دی جانی چاہیے۔ بعض صارفین نے اسکولوں میں اخلاقیات اور شہری ذمہ داریوں کے مضامین کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی۔ تاہم کئی افراد نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ چند افراد کے رویّوں کی بنیاد پر پوری قوم کو نشانہ بنایا جائے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے کروڑوں شہریوں میں سے چند مثالوں کو بنیاد بنا کر عمومی تاثر قائم کرنا مناسب نہیں اور غیر ملکی اداروں کو بھی مخصوص قومیتوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سفر، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہری آداب اور ثقافتی حساسیت کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بیرون ملک افراد کا رویّہ نہ صرف ان کی ذاتی شناخت بلکہ ان کے ملک کے بارے میں تاثر کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بحث سوشل میڈیا سے نکل کر ایک وسیع سماجی موضوع بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK