پیر کےالگ الگ احتجاج کے معاملے میںپولیس نے ۹؍ سو طلبہ اور کارکنان کے خلاف آزاد میدان اور شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں ۸؍ ایف آئی آر درج کی۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 12:14 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
پیر کےالگ الگ احتجاج کے معاملے میںپولیس نے ۹؍ سو طلبہ اور کارکنان کے خلاف آزاد میدان اور شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں ۸؍ ایف آئی آر درج کی۔
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنان ، طلبہ اور معصوم بچوں پر آنسو گیس چھوڑنے نیز پولیس کے مظالم پر شہر کے طلبہ اور غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ کارکنان میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ منگل کو طلبہ اور سماجی تنظیموں کےکئی کارکنان نے دادر شیواجی پارک کے قریب ایک بار پھرریلی نکالی جسے پولیس کے سخت پہرے کے سبب ناکام بنا نے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں طلبہ جمع ہوئے اوروزیر اعظم مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔اس طرح طلبہ نے ممبئی میںلگاتار دوسرے روز احتجاج کیا۔ وہیں پولیس نے اب تک آزاد میدان ، دادر شیواجی پارک اور چیتیہ بھومی پر’ سی جے پی ‘کی حمایت اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کیخلاف کئے جانے والے احتجاج اور ریلیوں میں شامل تقریباً ۹؍ سو طلبہ اور کارکنان کے خلاف آزاد میدان اور شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں ۸؍ ایف آئی آر درج کی ہے ۔ پولیس نے الگ الگ موقع پر احتجاج میں شامل ہونے والے طلبہ ، سماجی تنظیموں سے وابستہ کارکنان ، احتجاج اور ریلی کا اہتمام کرنےوالے آرگنائزروں کےخلاف بنا اجازت ریلی نکالنے ،بڑے پیمانے پر بھیڑ اکٹھا کرنے نیز شہریوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرنے کے تحت کیس درج کیا ہے ۔ پولیس نے دادر شیواجی پارک اور چیتیہ بھومی میںاحتجاج کرنے والے ۵؍ سو سے زائد طلبہ اور کارکنان کو حراست میں بھی لیا تھا لیکن سبھی کو متنبہ کرتے ہوئے اور نوٹس دے کر گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ: مطالبات پورے نہ ہونے پر ۱۵؍ اگست سے بے مدت ہڑتال
دوسری جانب پولیس نے کئی طلبہ کے گھر جاکر انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی تھی یا انہیں گھر میں نظر بند کرنے پر مجبور کررہی تھی لیکن طلبہ نے گھر آنے والے پولیس اہلکاروں سےپوچھا کہ کس بنیاد پر گھر میں نظر بندکیا جارہاہے یا پوچھ تاچھ کی جارہی ہے؟ یہ سوال سن کرپولیس واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئی ۔
قبل ازیں پولیس نے مختلف خفیہ ایجنسیوں سے ملنے والی اطلاع کے بعد حکم امتناعی نافذ کرتے ہوئے ۲۳؍ جولائی سے ۶؍اگست تک عدالتوں کے اطراف ،اسکول کالج ، سرکاری دفاتر اور تجارتی اداروں کے آس پاس سختی سے احتجاج یا ریلی نہ نکالنے کا فرمان جاری کیا ہے ۔پولیس کے بقول اس طرح کے احتجاج اور ریلیوں سے عوامی خدمات اور اقتصادی سرگرمیوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ نظام میں خلل پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۷ء کے لئے درخواست دینے کی تاریخ میں توسیع
۲۳؍ جولائی کو مہاراشٹر بند کا اعلان
جنتر منتر پراحتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کے جارحانہ لاٹھی چارج کے خلاف ونچت بہوجن اگھاڑی کے قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے ۲۳؍جولائی کو پر امن مہاراشٹر بند کااعلان کیا ہے۔منگل کو ممبئی میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پرکاش امبیڈکر نے ریاست کے سبھی شہریوں اور ملک کی سبھی اپوزیشن پارٹیوں سے اس بند میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے ۔ پرکاش امبیڈکر نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرنے کے علاوہ جمہوری طریقے سے عوامی تحریک شروع کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ۲۳؍جولائی کو مہاراشٹر میں مختلف ضلعی سطح اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے بعد مہاراشٹر بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ پرکاش امبیڈکر نے تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس بند کی حمایت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بند مکمل طور پر پُرامن رہے گا۔ کسی بھی تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔