Inquilab Logo Happiest Places to Work

آنگن واڑی اور آشا کارکنان کو بی ایل او کی ڈیوٹی دینے کیخلاف زبردست احتجاج

Updated: July 22, 2026, 12:19 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

آنگن واڑی اور آشاورکرز ایکشن کمیٹی کے آندولن میں سیکڑوں کارکنان کی شرکت، بی ایل او کی ڈیوٹی دینے سے کارکنان میں شدید ناراضگی۔

A scene from the massive protest at Azad Maidan. Photo: INN
آزاد میدان پر زبردست آندولن کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

آنگن واڑی اور آشاکارکنان کو معاون بی ایل اوز کی ڈیوٹی دیئے جانے اور بی ایل او کی ڈیوٹی سے منع کرنے پر ملازمت سے برطرف اور کارروائی کرنے کی دھمکی کے خلاف آنگن واڑی اور آشاورکرز ایکشن کمیٹی نے منگل کو آزاد میدان پر زبردست آندولن کیا۔اس دوران شہر ومضافات کے سیکڑوں ورکرز نے احتجاج میں حصہ لیا۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، چوکلنگم نے ایکشن کمیٹی کے وفد کو یقین دلایاہےکہ سیویکائوںاور آشاورکرز سے اسسٹنٹ بی ایل او کا کام زبردستی نہیں کرایاجائے گا،نہ ہی ان پر کارروائی کی جائے گی۔

ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کےمطابق ’’آنگن واڑی کارکنان کا بنیادی کام پری پرائمری تعلیم، بچوں کی غذائیت اور صحت، وزن اور قد کی پیمائش، سروے، نئی پیدائش، حاملہ خواتین، بچوں کی اموات اور زچگی کی شرح اموات کو روکنا، ان کا ریکارڈ رکھنا، گھر کے دورے اور ٹیکہ کاری وغیرہ کی ذمہ داری نبھانا ہے لیکن محکمہ الیکشن نے انہیں اسسٹنٹ بی ایل او کی ذمہ داری سونپ دی ہے جو سیویکائیں ڈیوٹی کرنے سے منع کر رہی ہیں انہیں دھمکی آمیز خطوط دیئے جا رہے ہیں جس میں بی ایل او کا کام نہ کرنے پر سروس ختم کرنے اور کارروائی کی دھمکی دی جا رہی ہے جس سے آنگن واڑی کارکنوں میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۷ء کے لئے درخواست دینے کی تاریخ میں توسیع

واضح رہےکہ خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے نے آنگن واڑی کارکنوں کو اضافی کام نہ دینےکی ہدایت جاری کی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اضافی کام دینے سے منع کیا ہے تاکہ ان کا اصل کام متاثر نہ ہو ۔ 

ایکشن کمیٹی کے کارکنان نے کہاکہ ’’آشاورکزز بھی صحت کی خدمات فراہم کرنے کا بہت اہم اور ضروری کام کرتی ہیں ۔اس وقت مانسون کاموسم ہے۔ برساتی پانی اور بند نالوں کی وجہ سے وبائی امراض جیسے ڈائریا، ملیریااور ڈینگو وغیرہ پھیل رہے ہیں۔ وہ ہر قسم کے امراض اور بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ڈھونڈ کر انہیں مرکز صحت تک پہنچانے یا ان کی معلومات مرکز صحت کو فراہم کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ وہ روزانہ اوسطاً ۶؍سے ۷؍گھنٹے کام کرتی ہیں ۔ اس لئے وہ صحت کی خدمات اور انتخابی کام دونوں ایک ساتھ نہیں کر سکتی ہیں۔ ایسے میں انہیں بی ایل اوکی ڈیوٹی دینا ،ان کے صحت کی دیکھ بھال کے ضروری کام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے صحت، تغذیہ اور تعلیم کے شعبوں میں اہم اور بنیادی کام کرنے والی آنگن واڑی اور آشا ورکرز کو بی ایل اوکا کام زبردستی نہ سونپاجائے۔اس کام کیلئے ایک آزاد طریقہ کار نافذ کیا جا ناچاہئے ۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کواس کام کیلئے مقرر کیا جائے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : بیسٹ کی طرز پر بجلی سپلائی میونسپل کارپوریشن کے سپرد کرنے کا مطالبہ

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسرپی چوکلنگم سے مذکورہ ایکشن کمیٹی کی شوبھا شمیم، راجو دیسلے، دلیپ اُٹانے، نتین پوار، دتا دیشمکھ، سوورنا تلیکر، آنندی آوکےاور نیلیش داتکھیلےنے ملاقا ت کی ۔ پی چوکلنکم نے وفد کو یقین دلایا کہ آنگن واڑی او رآشا ورکرز پر اسسٹنٹ بی ایل او کے کام کیلئے جبر نہیں کیا جائے گا اور انکار کرنے والی آنگن واڑی یا آشا ورکر کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK