Updated: July 24, 2026, 5:33 PM IST
| New Delhi
سی جے آئی نے سوریہ کانت نے جمعہ کے دن کہا کہ ”گزشتہ دو دنوں میں بالکل جھوٹا بیان پھیلایا گیا کہ (طلبہ مظاہرین پر تشدد کے سلسلے میں) کیس دائر کیا گیا تھا اور (اس کی بناء پر) میڈیا تمام ذمہ داریوں سے بالکل آزاد ہو کر غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ جھوٹی رپورٹنگ کر رہا ہے کہ چیف جسٹس نے معاملے کو لسٹ کرنے سے انکار کر دیا۔ صبح ۱۰ بجے تک ایک صفحہ بھی دائر نہیں کیا گیا تھا ڈیٹا سیٹ میں۔“
سی جے آئی سوریہ کانت۔ تصویر: ایکس
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے جمعہ کے دن وضاحت کی کہ ۲۰ جولائی کو نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ مظاہرین کے خلاف دہلی پولیس کی جانب سے بظاہر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال پر سپریم کورٹ کی مداخلت کیلئے کوئی پٹیشن دائر نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے میڈیا پر یہ غلط رپورٹنگ کرنے کا الزام لگایا کہ انہوں نے اس معاملے کو سماعت کیلئے درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سی جے آئی نے کہا کہ ”کسی شخص نے صرف ’لفظی طور پر اس کا ذکر‘ کیا تھا۔ لیکن میڈیا نے غلط رپورٹنگ کی کہ میں نے اس معاملے کو سماعت کیلئے لسٹ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ صرف ایک زبانی نمائندگی تھی اور لوگوں نے بغیر تصدیق کے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ شروع کر دی۔ میں نے رجسٹری سے چیک کیا، ایک کاغذ بھی دائر نہیں کیا گیا تھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”گزشتہ دو دنوں میں بالکل جھوٹا بیان دیا گیا کہ معاملہ دائر کیا گیا تھا اور (اس کی بناء پر) میڈیا تمام ذمہ داریوں سے بالکل آزاد ہو کر غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ جھوٹی رپورٹنگ کر رہا ہے کہ چیف جسٹس نے معاملے کو لسٹ کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈیٹا سیٹ میں صبح ۱۰ بجے تک ایک صفحہ بھی دائر نہیں کیا گیا تھا۔“
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ
بدھ کے دن سپریم کورٹ میں کیا ہوا تھا؟
یہ تنازع بدھ، ۲۲ جولائی کو ہونے والی ایک سماعت کے بعد پیدا ہوا جب ایک وکیل نے جنتر منتر پر طلبہ مظاہرین کے خلاف دہلی پولیس کے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کا معاملہ اٹھایا۔ وکیل نے بنچ کو بتایا کہ ”جنتار منتر پر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ پولیس وحشیانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔“ چیف جسٹس کانت نے جواب دیا تھا کہ ”براہِ کرم ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔ آپ کا وقت ہمارے وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔“ جب وکیل نے ویڈیو ثبوت پیش کرنے پر اصرار کیا، تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے جمعہ کے دن واضح کیا کہ چونکہ کوئی باضابطہ درخواست دائر ہی نہیں کی گئی تھی، اس لئے کسی معاملے کو لسٹ کرنے سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔