خصوصی عدالت کا ۹؍ ملزمین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات طے کرنے کا حکم جن میں یہ تینوں بھی شامل ہیں۔
لالو خاندان کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ تصویر: آئی این این
آئی آر سی ٹی سی ہوٹل کےمعاملے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوی یادو سمیت ۹؍ ملزمین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات طے کرنے کا دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے حکم دیا ہے۔ معاملے کی سماعت جمعرات کو خصوصی جج وشال گوگنے کی عدالت میں ہوئی۔ عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کے خلاف عہدے کے غلط استعمال اور جرم سے حاصل رقم کے استعمال کا مضبوط اندیشہ نظر آتا ہے۔ عدالت نے پٹنہ کی اس زمین کا بھی ذکر کیا جو مبینہ طور پر۲۰۰۵ء سے۲۰۱۴ء کے درمیان لالو پرساد یادو کے ریلوے وزیر رہنے کے دوران ان کے اثر و رسوخ اور مبینہ لین دین کے ذریعے رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سے منسلک ہوئی تھی۔
عدالت کے مطابق لالو پرساد یادو کے ریلوے وزیر رہنے کے دوران ریلوے حکام کی مبینہ مدد سے رانچی اور پوری میں واقع آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے آپریشن کیلئے جاری ٹینڈر کے عمل میں مبینہ طور پر ہیر پھیر کی گئی۔ الزام ہے کہ ہوٹلوں کی لیز حاصل کرنے والے نجی ہوٹل آپریٹروں نے بعد میں پٹنہ کی ایک زمین سرلا گپتا نامی خاتون کو منتقل کی جنہیں لالو پرساد یادو کا قریبی بتایا گیا ہے۔بعد ازاں سرلا گپتا نے مبینہ طور پر اس زمین سے متعلق حصص انتہائی کم قیمت پر رابڑی دیوی کو منتقل کئے تھے۔