Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ

Updated: July 24, 2026, 4:02 PM IST | New Delhi

دہلی کے جنتر منتر کے اطراف بار بار موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے خلاف دائر عوامی مفاد کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے فوری سماعت پر آمادگی ظاہر کر دی۔ دوسری جانب جاری طلبہ احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بندش، پولیس پابندیوں اور حکومتی اقدامات پر ڈجیٹل حقوق کی تنظیموں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

Delhi High Court. Photo: INN
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

دہلی کے جنتر منتر کے اطراف موبائل انٹرنیٹ خدمات کی بار بار معطلی کے خلاف دائر عوامی مفاد کی درخواست (پی آئی ایل) کا جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں ذکر کیا گیا، جس پر عدالت نے اسی دن فوری سماعت کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس دیویندر کمار اُپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریہ پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ڈجیٹل حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ایس ایف ایل سی ڈاٹ اِن (SFLC.in) نے یہ پی آئی ایل دائر کرتے ہوئے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ ۲۰۲۳ءاور ٹیلی کمیو نی کیشن (عارضی معطلی خدمات) قواعد ۲۰۲۴ءکے تحت اختیارات کے استعمال سے متعلق آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جنتر منتر کے اطراف انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں اور دوپہر ڈھائی بجے فوری سماعت کی درخواست کی، جسے دہلی ہائی کورٹ نے قبول کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: بڑھاپے سے دور رہنے کا انجکشن لگانے سے جوان لڑکی کی موت

یہ پی آئی ایل ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب احتجاجی مقام کے اطراف بار بار انٹرنیٹ بند کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو مرکزی حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو جنتر منتر کے ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں موبائل ڈیٹا خدمات معطل کرنے کی ہدایت دی۔ جاری طلبہ احتجاج کے دوران ایک ہفتے میں یہ چھٹی مرتبہ انٹرنیٹ معطل کیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ’’عوامی تحفظ، ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بچاؤ اور کسی بھی جرم پر اکسانے کی روک تھام‘‘ کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ بار بار انٹرنیٹ معطلی کے باعث وسطی دہلی میں رہائشیوں، کاروباری اداروں اور مسافروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں، رابطے اور نیویگیشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین نے منڈی ہاؤس تک کے علاقوں میں کمزور یا مکمل طور پر منقطع انٹرنیٹ کی شکایت کی، جبکہ چھوٹے تاجروں نے بتایا کہ یو پی آئی (UPI) ادائیگیاں وصول نہ کر سکنے کی وجہ سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ٹیلی کمیونیکیشن (عارضی معطلی خدمات) قواعد ۲۰۲۴ءکے مطابق انٹرنیٹ معطلی کے احکامات صرف مرکزی یا ریاستی داخلہ سکریٹری، یا ناگزیر حالات میں جوائنٹ سکریٹری سے کم درجے کے نہ ہونے والے افسر کی جانب سے جاری کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں توقع کے برخلاف نتائج ،عدالت نے نوٹس جاری کیا

ڈجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسیس ناؤ (Access Now) نے جنتر منتر کے اطراف انٹرنیٹ معطلی کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر خدمات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’جنتر منتر کے اطراف انٹرنیٹ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بندش معلومات تک رسائی محدود کرتی ہے، رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور حکام کو عوامی نگرانی سے بچاتی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ انٹرنیٹ بندش سے عوامی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘ تنظیم نے اس موقع پر #KeepItOn ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا حکومت اور پولیس پر الزام

دریں اثنا، نئی دہلی کے جنتر منتر اور ملک کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے بڑے پیمانے کے احتجاج بدستور جاری ہیں، جہاں ہزاروں طلبہ اور نوجوان امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، امتحانی بے ضابطگیوں پر جوابدہی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش، پولیس کی کارروائیوں، حراستوں اور احتجاجی مقام کے اطراف سخت پابندیوں کے باوجود ہزاروں مظاہرین مسلسل جنتر منتر پر جمع ہو رہے ہیں۔ ادھر سماجی کارکن سونم وانگچک نے اسپتال میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اسی دوران سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK