Updated: October 16, 2026, 5:58 PM IST
| New Delhi
دہلی میں سی جے پی کے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ مارچ کے دوران پولیس نے تنظیم کے بانی ابھیجیت دپکے اور اے آئی ایس اے کی کارکن نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ کناٹ پلیس میں مظاہرین کی بھیڑ جمع ہونے، ٹریفک جام اور پولیس کی ڈرون کے ذریعے نگرانی کے باعث علاقے میں سکیوریٹی سخت کر دی گئی ہے۔
دہلی پولیس دپکے کو گرفتار کرکے لے جاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
ترنگا مارچ میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے ابھیجیت دپکے حراست میں، نیہا بورا بھی گرفتار کی گئیں
دہلی پولیس نے جمعہ کو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی کارکن نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ دپکے کو اپنی تنظیم کے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ مارچ میں شرکت کیلئے کناٹ پلیس جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، جبکہ نیہا بورا کو مارچ شروع کرنے کے کچھ ہی دیر بعد منڈی ہاؤس کے قریب حراست میں لیا گیا۔
دہلی کے کناٹ پلیس میں پالیکا مارکیٹ کے گیٹ نمبر ایک کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ہے، جن میں بعض افراد کے ہاتھوں میں قومی ترنگا بھی نظر آرہا ہے۔ کناٹ پلیس کے اندرونی سرکل میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جبکہ پولیس ڈرون کی مدد سے بھیڑ اور علاقے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
دہلی’لہرا دو ترنگا‘ مارچ: سی پی میں مظاہرین جمع، سینٹرل پارک بند، سکیوریٹی سخت
دہلی پولیس نے سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے کو آج شام۵؍ بجے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ان کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مظاہرے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ سے قبل نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کناٹ پلیس احتجاج کیلئے مختص مقام نہیں ہے، اس لئے دپکے کو مارچ منعقد نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم، علاقے میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی ہے اور کناٹ پلیس و پالیکا بازار کے اطراف بڑے پیمانے پر پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔
سیکوریٹی اہلکاروں نے سینٹرل پارک کے اطراف انسانی زنجیر بنائی
دہلی کے کناٹ پلیس میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ احتجاج کیلئے مظاہرین کی بھیڑ جمع ہونے کے درمیان سیکوریٹی اہلکاروں نے سینٹرل پارک کے اطراف انسانی زنجیر بنا کر حفاظتی حصار قائم کر دیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینٹرل پارک کو دو دن کیلئے بند رکھنے کے بینر بھی آویزاں کئے گئے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دہلی پولیس نے کناٹ پلیس میں مجوزہ مارچ کے پیش نظر۶؍ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ مرکزی مسلح پولیس فورس کی تقریباً ۲۲۰؍کمپنیاں بھی تعینات کی ہیں۔ راجیو چوک، سینٹرل پارک اور اطراف کے علاقوں میں سی سی ٹی وی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ پولیس نے لوگوں سے سینٹرل پارک میں جمع ہونے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ڈل جھیل میں موٹر بوٹس اور ایندھن سے چلنے والی جیٹ اسکیز پر پابندی لگائی
یہ احتجاج کیوں کیا جارہا ہے؟
یہ احتجاج سی جے پی کے لیڈر سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ دونوں لیڈروں نے۱۳؍ اکتوبر کو جنتر منتر میں داخل ہوکر احتجاج کیا تھا، حالاں کہ اس مقام کو احتجاج کیلئے مختص مقامات کی فہرست سے خارج کیا جا چکا تھا۔ دہلی پولیس نے لٹینس زون اور اس کے اطراف۶؍ ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع سے مزید۵؍ ہزار اہلکاروں کو بھی تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ راجیو چوک، کناٹ پلیس کی مارکیٹوں، سینٹرل پارک، قریبی میٹرو اسٹیشنوں، جنتر منتر اور پالیکا بازار کے اطراف سیکوریٹی سخت کی جائے گی۔ دوسری جانب ممبئی میں پولیس نے سی جے پی کو آزاد میدان میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس ریلی کا مقصد جیل میں بند لیڈروں آشوتوش رنکا اور سورَو داس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ ریلی صبح۱۰؍ بجے شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈانہ: مہکر میں نامعلوم کیڑوں کے کاٹنے کی دہشت
دہلی میں سی جے پی کی ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی
سی جے پی کے کنوینر ابھیجیت دپکے نے اپنے ساتھی کنوینروں سورَو داس اور آشوتوش رنکا کی منگل کی صبح گرفتاری کے بعد ترنگا یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں لیڈروں کو جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے معاملے میں پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔ جنتر منتر کو احتجاج کیلئے مختص مقام کی فہرست سے خارج کیا جا چکا ہے۔ دپکے اس مارچ میں طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ساتھ شرکت کریں گے۔ مارچ شام۵؍ بجے شروع ہونے والا ہے۔ دہلی پولیس کی ترجمان نہا یادو نے کہا کہ مارچ کیلئے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ ۱۶۳؍ پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ کو کسی دوسرے ’’مناسب مقام‘‘ پر مارچ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق، مجوزہ مارچ سے قبل سینٹرل پارک اور راجیو چوک کے اطراف۱۰؍ سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سابق آئی اے ایس افسر دِویہ متل نے ’جن نیتی بھارت‘ پارٹی قائم کی
کناٹ پلیس احتجاج کیلئے مختص مقام نہیں : ابھیجیت دپکے کو پولیس کا نوٹس
دہلی پولیس نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے سے کہا ہے کہ وہ آج کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا مارچ منعقد نہ کریں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے، ’’آپ کو یہ بھی مطلع کیا جاتا ہے کہ کناٹ پلیس احتجاج کیلئےنوٹیفائیڈ مقام نہیں ہے۔ دیگر مقامات، جنہیں احتجاج کیلئے مختص کیا گیا ہے، وہاں قانونی اجازت حاصل کرنے اور اجازت ملنے کی صورت میں مظاہرے کئے جا سکتے ہیں۔ ‘‘
کناٹ پلیس میں ’’سینٹرل پارک بند ہے‘‘ کے بینر آویزاں
کناٹ پلیس میں ایسے بینر آویزاں کئے گئے ہیں جن پر درج ہے کہ سینٹرل پارک آج اور کل بند رہے گا۔ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے ایک روز قبل ہی پارک کو دو دن کیلئے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ سینٹرل پارک وہی مقام ہے جہاں ابھیجیت دپکے نے آج ترنگا مارچ منعقد کرنے کی اپیل کی تھی۔