Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۷؍ روز بعد سی جے پی کا احتجاج ختم، حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کرلئے

Updated: July 25, 2026, 6:33 PM IST | New Delhi

NEET پرچہ لیک کے خلاف ۳۷؍ روز سے جاری سی جے پی (کاکروچ جنتا پارٹی) کے جنتر منتر احتجاج کا اختتام ہو گیا۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ مرکزی حکومت نے مذاکرات کے بعد ان کے باقی اہم مطالبات مان لیے ہیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں فریقوں نے ایک پانچ نکاتی چارٹر پر اتفاق کا بھی اعلان کیا۔

JP Nadda and Jitendra Singh and CJP representatives can be seen at the joint press conference. Photo: X
مشترکہ پریس کانفرنس میں جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ اور سی جے پی کے نمائندوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: ایکس

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ۳۷؍ روز سے جاری اپنے جنتر منتر احتجاج کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ تین ادوار کے مذاکرات کے بعد ان کے باقی اہم مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ تنظیم کے لیڈروں نے کہا کہ احتجاج کے دوران اٹھائے گئے بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے ایک پانچ نکاتی چارٹر پر اتفاق کیا ہے، جس کی بنیاد پر آگے اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومتی وفد کی قیادت کرنے والے بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور متفقہ نکات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سی جے پی کے مطابق حکومت نے ان کے دو بڑے مطالبات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے کا فیصلہ شامل ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق احتجاج سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اگرچہ دھرنا ختم کیا جا رہا ہے، لیکن امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ سی جے پی کے لیڈروں نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر بھی نظر رکھیں گے۔

تصویر: ایکس

یہ احتجاج گزشتہ ماہ NEET کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اس دوران جنتر منتر سمیت کئی مقامات پر بڑے مظاہرے ہوئے، متعدد افراد زخمی ہوئے، پولیس کارروائیاں ہوئیں اور معاملہ قومی سیاست کا اہم موضوع بن گیا۔ بعد ازاں حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے بعد تعطل ختم ہوا اور بالآخر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK