• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان نے ۴۴؍ سال بعد خواتین ہاکی میں ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیت لیا

Updated: October 02, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi

ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ایشین گیمز ۲۰۲۶ء کے فائنل میں دفاعی چیمپئن چین کو ۰۔۱؍گول سے شکست دے کر ۴۴؍ سال بعد خواتین ہاکی کا طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا۔ ہندوستان نے آخری مرتبہ ۱۹۸۲ء میں ایشین گیمز میں خواتین ہاکی کا گولڈ میڈل جیتا تھا۔

Hockey Players.Photo:X
ہاکی کےکھلاڑی۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے  ایشین گیمز ۲۰۲۶ء کے فائنل میں دفاعی چیمپئن چین کو ۰۔۱؍گول  سے شکست دے کر ۴۴؍ سال بعد خواتین ہاکی کا طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا۔ ہندوستان نے آخری مرتبہ ۱۹۸۲ء میں ایشین گیمز میں خواتین ہاکی کا گولڈ میڈل جیتا تھا، جس کے بعد ٹیم کو اس کامیابی کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔چین کے خلاف سنسنی خیز فائنل میں ہندوستان کی جانب سے واحد اور فیصلہ کن گول  لالریمسیا می  نے میچ کے۱۰؍ویں منٹ  میں کیا۔ انہوں نے شاندار ریورس اسٹک/ٹام ہاک شاٹ کے ذریعے گیند کو جال میں پہنچا کر ہندوستان کو۰۔۱؍گول  کی برتری دلائی۔

یہ بھی پڑھئے:شری رام کو دُھرندھر بنا دیا، مکیش کھنہ نے ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس پرسوال اٹھائے

یہ گول لالریمسیا می کے لیے اس لیے بھی خاص رہا کیونکہ یہ ان کا ۲۰۰؍واں بین الاقوامی میچ  تھا۔ انہوں نے اپنی اس تاریخی پیشی کو یادگار بناتے ہوئے ہندوستان کے لیے طلائی تمغہ جیتنے کی بنیاد رکھ دی۔ گول کھانے کے بعد چین نے مسلسل حملے کیے اور ہندوستانی دفاع پر دباؤ بڑھایا۔ چینی ٹیم نے کئی مرتبہ ہندوستان کے سرکل میں داخل ہوکر برابری کا گول کرنے کی کوشش کی، لیکن ہندوستانی کھلاڑیوں نے مضبوط دفاعی کھیل پیش کرتے ہوئے چینی حملوں کو ناکام بنایا۔دوسرے کوارٹر میں چین کو پینالٹی اسٹروک  بھی ملا، لیکن تجربہ کار ہندوستانی گول کیپر  سویتا پونیا  نے شاندار ایک ہاتھ سے بچاؤ کرتے ہوئے گیند کو روک دیا۔ ان کا یہ سیو میچ کے فیصلہ کن لمحات میں شامل رہا اور ہندوستان کی برتری برقرار رہی۔ خواتین ہاکی نے ایشین گیمز میں۱۹۸۲ء میں قدم رکھا تھا اور ہندوستان نے اسی ایڈیشن میں پہلی مرتبہ طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستانی ٹیم دوبارہ گولڈ میڈل حاصل نہیں کر سکی تھی۔


ہندوستان  ۱۹۹۸ء اور ۲۰۱۸ء میں بھی فائنل تک پہنچا، لیکن دونوں مواقع پر اسے چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔  ۱۹۹۸ء میں جنوبی کوریا نے ہندوستان کو شکست دی، جبکہ ۲۰۱۸ء میں جاپان نے طلائی تمغہ جیتا تھا۔ ۲۰۲۶ءمیں چین کو شکست دے کر ہندوستان نے آخرکار ۴۴؍سالہ انتظار ختم کردیا۔ ایشین گیمز کا یہ طلائی تمغہ ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کے لیے ایک اور اہم کامیابی بھی لے کر آیا۔ اس فتح کے ساتھ ہندوستان نے۲۰۲۸ء لاس اینجلس اولمپکس  کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرلیا ہے۔ ایشین گیمز کی فاتح ٹیم کو اولمپکس کا براہِ راست کوٹا ملتا ہے، اس لیے چین کے خلاف جیت نے ہندوستان کے لیے اگلے اولمپک سفر کی راہ بھی ہموار کردی۔

یہ بھی پڑھئے:سجیت نے شاندار مقابلہ کرتے ہوئے کشتی میں طلائی تمغہ جیتا

چین نے گزشتہ ایشین گیمز میں خواتین ہاکی کا طلائی تمغہ جیتا تھا اور۲۰۲۶ء میں بھی اسے دفاعی چیمپئن کی حیثیت حاصل تھی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ چین پیرس اولمپکس کی چاندی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم بھی تھی، اس لیے فائنل میں ہندوستان کے سامنے ایک مضبوط حریف موجود تھا۔اس کے باوجود ہندوستانی ٹیم نے پورے میچ میں نظم و ضبط کے ساتھ دفاع کیا اور لالریمسیا می کے ابتدائی گول کی برتری کو آخری سیٹی تک برقرار رکھا۔
 فائنل سے قبل ہندوستان نے سیمی فائنل میں  جنوبی کوریا کو ۰۔۲؍گول سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ ہندوستان کی جانب سے  ایشیکا چودھری  نے۴۴؍ویں منٹ میں گول کیا، جبکہ کپتان  سلیمہ ٹیٹے  نے ۴۸؍ویں منٹ میں دوسرا گول کرکے ٹیم کی فائنل میں جگہ یقینی بنائی تھی۔ گروپ مرحلے میں بھی ہندوستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنے تمام پانچ میچ جیتے تھے۔ ٹیم نے گروپ مرحلے میں مجموعی طور پر ۶۶؍گول کیے اور صرف ۳؍گول  اپنے خلاف ہونے دیے، جس سے اس کی مضبوط مہم کا اندازہ ہوتا ہے۔
چین کے خلاف ۰۔۱؍گول  کی کامیابی نے ہندوستانی خواتین ہاکی کے لیے ایک تاریخی باب رقم کردیا۔ ۴۴؍ سال بعد ایشین گیمز کا طلائی تمغہ، چین کے خلاف فائنل میں فتح اور ۲۰۲۸ء لاس اینجلس اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفکیشن  اس کامیابی کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ لالریمسیا می کا فیصلہ کن گول، سویتا پونیا کا پینلٹی اسٹروک روکنا اور پورے میچ میں ہندوستانی دفاع کی مضبوط کارکردگی اس تاریخی فتح کے نمایاں لمحات رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK