چین سے درآمد کیے جانے والے موبائل فون کور آنے والے دنوں میں قدرے مہنگے ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ ریمیڈیز نے چین سے درآمد ہونے والے موبائل کور پر پانچ سال کے لیے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi
چین سے درآمد کیے جانے والے موبائل فون کور آنے والے دنوں میں قدرے مہنگے ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ ریمیڈیز نے چین سے درآمد ہونے والے موبائل کور پر پانچ سال کے لیے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
چین سے درآمد کیے جانے والے موبائل فون کور آنے والے دنوں میں قدرے مہنگے ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ ریمیڈیز نے چین سے درآمد ہونے والے موبائل کور پر پانچ سال کے لیے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ تجویز کے مطابق دیگر چینی پروڈیوسرز اور برآمد کنندگان کے لیے ڈیوٹی ۷۲؍امریکی ڈالر فی ایک ہزار موبائل کور مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ڈی جی ٹی آر نے موبائل کور سے متعلق اپنی حتمی تحقیقات ۲۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو جاری کیں۔ یہ تحقیقات ۲۹؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو شروع کی گئی تھیں اور اس میں یکم اپریل ۲۰۲۴ء سے ۳۱؍مارچ ۲۰۲۵ء تک کے عرصے کو تحقیقاتی مدت کے طور پر شامل کیا گیا۔ تحقیقات میں ایسے موبائل فون کور شامل ہیں جو چین سے درآمد کیے جاتے ہیں، جبکہ مخصوص اقسام کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ہندوستانی مارکیٹ میں چینی موبائل کور کی موجودگی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۵۔۲۰۲۴ء کی تحقیقاتی مدت میں چین سے درآمد کیے گئے موبائل کور ہندوستان میں مجموعی کھپت کا تقریباً ۵۱؍ فیصدتھے۔ ڈی جی ٹی آر کے مطابق درآمدات کے حجم میں اضافے کے ساتھ مقامی صنعت کے مارکیٹ شیئر میں کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:کونیا میں فلسطین سے یکجہتی کا منفرد مظاہرہ، فٹبال میچ 89:59 پر ختم
ڈی جی ٹی آر نے یہ بھی پایا کہ کم قیمت پر آنے والی درآمدات نے ہندوستانی موبائل کور تیار کرنے والی کمپنیوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ مقامی صنعت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ چینی درآمدات کی قیمتوں کے باعث ہندوستانی مینوفیکچررز اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے مطابق قیمتیں بڑھانے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔
ڈی جی ٹی آر کی حتمی رپورٹ کے مطابق موبائل کور کی درآمدات میں اضافے کے ساتھ ہندوستانی صنعت کے مارکیٹ شیئر میں کمی اور پیداواری صلاحیت کے کم استعمال جیسے مسائل سامنے آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی صنعت کے پاس ہندوستانی طلب پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ پیداواری صلاحیت موجود ہے، لیکن اس صلاحیت کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ مقامی صنعت کے منافع سے متعلق کئی اشاریوں میں تحقیقاتی مدت تک نمایاں کمی آئی۔ ڈی جی ٹی آر نے اس نتیجے کی بنیاد پر کہا کہ غیر تعاون کرنے والے چینی پروڈیوسرز اور برآمد کنندگان سے ہونے والی درآمدات میں ڈمپنگ اور صنعت کو پہنچنے والے نقصان کا مارجن مثبت اور قابل ذکر تھا۔ تجویز کردہ ڈیوٹی کا براہ راست حساب تقریباً ۷۲؍ڈالر فی ایک ہزار کور بنتا ہے، یعنی فی کور تقریباً ۰۷۲ء۰؍ ڈالر۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستانی بازار میں ہر موبائل کور کی قیمت اتنی ہی مقدار سے لازماً بڑھ جائے گی۔ ڈی جی ٹی آر سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق آخری صارفین پر اس اقدام کا متوقع اثر ایک فیصد سے بھی کم رہ سکتا ہے۔ اس لیے اگر سفارش کو منظوری ملتی ہے تو موبائل کور کی خردہ قیمت میں بہت بڑا اضافہ ہونے کے بجائے محدود اثر پڑنے کا امکان ہے، البتہ حتمی قیمت درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، خردہ فروشوں اور مصنوعات کی قسم کے حساب سے مختلف ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’ ’دِریشیم: دی کنکلوژن‘‘ اجے دیوگن اور تبو کی ۱۱؍ویں مشترکہ فلم
اہم بات یہ ہے کہ ڈی جی ٹی آر کی سفارش خود حتمی ڈیوٹی کا نفاذ نہیں ہے ۔ ڈی جی ٹی آر نے تجارتی تدارک کے طور پر ڈیوٹی کی سفارش کی ہے، جبکہ اس کے بعد متعلقہ حکومتی عمل کے تحت حتمی فیصلہ اور نفاذ ہوگا۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چین سے آنے والے تمام موبائل کور فوری طور پر مہنگے ہوگئے ہیں۔ اگر حکومت سفارش کو منظوری دیتی ہے اور متعلقہ نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے تو چینی موبائل کور کی درآمد پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد ڈی جی ٹی آر کی تحقیقات کے مطابق مقامی موبائل کور مینوفیکچررز کو کم قیمت والی درآمدات سے ہونے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرنا اور ہندوستانی صنعت کے لیے مسابقتی ماحول بہتر بنانا ہے۔